ریاست دشمنوں کے خلاف سخت اقدام کی طرف بڑھ چکی ہے، فیصل واوڈا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ریاست نے بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک دشمنوں کے بیانیے کے حوالے سے اب واضح اور سخت مؤقف اپنا لیا ہے اور جن سوالات کے جواب بہت عرصے سے دیے جانے تھے، وہ اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا،ریاستی جواب نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جوتے کی سول تو بہت چھوٹی چیز ہے اور جو لوگ ملک اور فوج کے خلاف بیانیہ چلا رہے ہیں، وہ براہِ راست غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔
انہوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کا سیاسی باپ وزیراعظم تھا صورتحال مختلف تھی مگر اب جنہیں وہ بن باپ کے لاوارث اور سڑک چھاپ قرار دیتے ہیں، ان کا باپ جیل میں ہے اور ملک دشمنی کے مقدمات کا سامنا کررہا ہے۔
واوڈا نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف نے منصوبہ بندی کے تحت بھارت اور افغانستان سے رابطے رکھے، اور وہ اس بارے میں طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں، ریاست نے آسان اور دو ٹوک پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان، اس کی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف ہر قسم کی بد زبانی اور پروپیگنڈا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہاکہ اب لتر، چھتر اور ڈنڈا پریڈ شروع ہونے جارہی ہے اور ملک دشمن، دہشت گردی پھیلانے والے اور عدم استحکام پیدا کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بین، نااہلی، گورنر راج، غداری کے مقدمات اور 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے انجام کے حوالے سے وہ پہلے ہی پیش گوئیاں کر چکے تھے، جو اب حقیقت میں بدلتی دکھائی دے رہی ہیں، ریاست نے ملک دشمن عناصر کو سڑک پر پٹہ ڈالنے کا وقت شروع کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اقدامات سامنے آئیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کے خلاف ہے اور
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔