اسرائیلی انخلا کے بعد حماس سے کھلی جنگ کریں گے، ابو شباب کے جانشین غسان الدہینی کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق مشہور گینگسٹر یاسر ابو شباب کے قتل کے بعد اس کے جانشین غسان الدہینی نے حماس کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ غسان الدہینی، جو اسی حملے میں زخمی ہوا تھا جس میں ابو شباب مارا گیا، اب باقاعدہ طور پر گینگ کی قیادت سنبھال چکا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق غسان کو معمولی زخم آئے تھے اور علاج کے بعد وہ ابو شباب کے جنازے میں بھی شریک ہوا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں اسے مسلح ساتھیوں کے ساتھ گشت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
غسان الدہینی کا انٹرویو اسرائیلی چینل 12 پر نشر کیا گیا، جس میں اُس نے واضح دھمکی دی کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے بعد گینگ حماس کے خلاف کھلی جنگ شروع کرے گا اور اس جنگ کو حماس کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا۔
غسان کا کہنا تھا کہ حماس اب اس حد تک کمزور ہوچکی ہے کہ غزہ میں لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غسان الدہینی کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔