Islam Times:
2026-06-03@02:42:39 GMT

20 برسوں میں یورپ کی تہذیبی تباہی کی امریکی پیشین گوئی

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

20 برسوں میں یورپ کی تہذیبی تباہی کی امریکی پیشین گوئی

اسلام ٹائمز: مہاجرت کا مسئلہ اس حد تک بڑھایا گیا ہے کہ حکمتِ عملی کے مصنفین نے نیٹو کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دستاویز کے مطابق ممکن ہے کہ آنے والے چند عشروں میں، نیٹو کے بعض رکن ممالک میں غیر یورپی باشندے اکثریت بن جائیں۔ یورپ میں آزادیٔ اظہار کے زوال سے متعلق بیانات، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اس سے قبل جرمنی میں ایک سلامتی کانفرنس میں کی گئی تقاریر کی بازگشت قرار دی گئی ہے، جہاں انہوں نے یورپی رہنماؤں کو دائیں بازو کے نظریات پر سیاسی سنسرشپ کا الزام دیا تھا۔ اگرچہ اس 33 صفحات پر مشتمل قومی سلامتی کی حکمت عملی کا لہجہ سخت ہے، لیکن اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اسٹریٹجک اور ثقافتی اعتبار سے یورپ امریکہ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ خصوصی رپورٹ:

امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اپنی نئی قومی سلامتی کی دستاویز میں دعویٰ کیا ہے کہ یورپ کی تہذیب اگلے دو دہائیوں کے اندر تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس ہنگامہ خیز دستاویز میں امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کو بیان کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں امریکہ کے بعض قدیم ترین اتحادی ممالک ناقابل کنٹرول ہجرت کے باعث آئندہ 20 سال میں سنگین اور حقیقی تہذیبی زوال کے امکان کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس متنازعہ دستاویز میں یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے بے لگام ہجرت کی اجازت دے کر اور آزادیٔ اظہار پر پابندیاں لگا کر موجودہ بحران کو بڑھایا ہے۔

حکمتِ عملی کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو یہ براعظم 20 سال یا اس سے بھی کم عرصے میں ناقابلِ شناخت ہو جائے گا۔ دستاویز میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ آیا بعض یورپی ممالک کے پاس اتنی مضبوط معیشتیں اور فوجی طاقت باقی رہے گی کہ وہ امریکہ کے قابلِ اعتماد اتحادی بنے رہ سکیں۔ امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی دستاویز میں یورپ کے روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے اختیار کردہ مؤقف پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے۔ دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یورپ اعتماد کی کمی کا شکار ہے، جو سب سے زیادہ اس کے روس کے ساتھ تعلقات میں نمایاں ہوتی ہے۔

اگرچہ یورپی ممالک کے پاس روس کے مقابلے میں سخت طاقت (یعنی فوجی طاقت) میں قابلِ ذکر برتری ہے، لیکن یوکرین جنگ کے باعث وہ اب روس کو بقا کے لئے خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ امریکی اسٹریٹجی میں بعض یورپی حکومتوں کے یوکرین سے متعلق مؤقف پر بھی تنقید کی گئی ہے اور نامعلوم حکام پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ غیر حقیقت پسندانہ توقعات رکھتے ہیں، جبکہ خود اپنے ممالک میں غیر مستحکم اقلیتی حکومتیں چلا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ بعض یورپی ممالک میں عوام جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں، لیکن ان کی حکومتیں جمہوری عمل کو کمزور کرکے اس عوامی خواہش کو روک رہی ہیں۔

مہاجرت کا مسئلہ اس حد تک بڑھایا گیا ہے کہ حکمتِ عملی کے مصنفین نے نیٹو کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دستاویز کے مطابق ممکن ہے کہ آنے والے چند عشروں میں، نیٹو کے بعض رکن ممالک میں غیر یورپی باشندے اکثریت بن جائیں۔ یورپ میں آزادیٔ اظہار کے زوال سے متعلق بیانات، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی اس سے قبل جرمنی میں ایک سلامتی کانفرنس میں کی گئی تقاریر کی بازگشت قرار دی گئی ہے، جہاں انہوں نے یورپی رہنماؤں کو دائیں بازو کے نظریات پر سیاسی سنسرشپ کا الزام دیا تھا۔ اگرچہ اس 33 صفحات پر مشتمل قومی سلامتی کی حکمت عملی کا لہجہ سخت ہے، لیکن اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اسٹریٹجک اور ثقافتی اعتبار سے یورپ امریکہ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ کے یورپی تہذیب کے مستقبل پر دعوے:
امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرِ قیادت حکومت نے جاری کی، نہ صرف یورپ کے مستقبل کے بارے میں تشویشات بیان کرتی ہے بلکہ امریکہ یورپ تعلقات کے ممکنہ تناؤ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ دستاویز میں یورپ کی تہذیب، امن، معاشی استحکام اور نیٹو جیسے اہم اتحادوں کے مستقبل پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مرکزی دعویٰ: دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں بے قابو مہاجرت کے سبب تہذیبی اور سماجی ڈھانچہ بنیادی خطرے سے دوچار ہے۔ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو یورپ 20 برسوں میں شناخت کے قابل نہیں رہے گا۔ یورپی یونین سمیت بین الاقوامی اداروں پر الزام ہے کہ وہ ہجرت کو منظم کرنے میں ناکام رہے۔ آزادیٔ اظہار پر پابندی کو یورپی بحران کی ایک اور وجہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ سیاسی نوعیت کا ہے اور دائیں بازو کے حلقوں میں موجود بیانیے کی توسیع ہے، جو مہاجرت کو وجود کو لاحق خطرہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اعداد و شمار اور سوشل پالیسیوں کے تناظر میں یہ پیش گوئی مبالغہ آرائی محسوس ہوتی ہے، تاہم یورپ میں آبادیاتی تبدیلیاں حقیقی بحث کا موضوع ضرور ہیں۔
۔ یورپ کی سیاسی و عسکری کمزوری پر امریکی تشویش: دستاویز میں کہا گیا ہے کہ کچھ یورپی ممالک کی معیشتیں اور فوجیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ یورپ روس کے بارے میں اعتماد کے بحران کا شکار ہے۔ یوکرین جنگ نے یورپ کو دفاعی لحاظ سے مزید کمزور اور خوفزدہ بنا دیا ہے۔ یہ نقطہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یوکرین جنگ کے نتیجے میں یورپ دفاعی اور توانائی کے شعبوں میں امریکہ پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ یورپی یونین اندرونی اختلافات، مہنگائی اور سیاسی تقسیم سے دوچار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نیٹو میں امریکہ کے بوجھ سے بارہا ناخوشی کا اظہار کر چکی ہے۔ یہ تنقید اس وسیع تر امریکی پالیسی رجحان کا حصہ ہے جو یورپ سے زیادہ عسکری خود مختاری کی توقع رکھتی ہے۔
۔ نیٹو کا مستقبل، کیا یہ اتحاد کمزور ہوگا؟: دستاویز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ چند دہائیوں میں نیٹو کے بعض رکن ممالک میں غیر یورپی باشندے اکثریت بنا سکتے ہیں۔ یہ بیان صرف آبادیاتی تشویش نہیں بلکہ نیٹو کی شناخت اور اس کے اسٹریٹجک مفادات کے بارے میں سوالات کھڑا کرتا ہے۔ امریکہ یورپی اراکین پر اخراجات بڑھانے اور دفاعی ذمہ داریاں سنبھالنے کا دباؤ بڑھا رہا ہے۔ مستقبل میں نیٹو کے اندر سیاسی ہم آہنگی کم ہونے کا امکان موجود ہے۔ یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی نظر میں نیٹو ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
۔ یورپ میں آزادیٔ اظہار اور سیاسی سنسرشپ پر تنقید: دستاویز یورپ پر الزام لگاتی ہے کہ وہ دائیں بازو کی سیاسی سوچ کو سسٹمیٹک طور پر محدود کر رہا ہے۔ میڈیا اور سیاسی پلیٹ فارمز میں سیاسی درستگی کے نام پر اظہار رائے کا دائرہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ یہ نکتہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پہلے سے موجود نظریات کی بازگشت ہے۔ یورپ واقعی نفرت انگیز تقریر کے قوانین کو سخت کر رہا ہے، لیکن انہیں تہذیب کے زوال کا ثبوت قرار دینا سیاسی الزام کے دائرے میں آتا ہے نہ کہ سائنسی تجزیے میں۔

یورپ، امریکہ تعلقات پر ممکنہ اثرات:
دستاویز کا سخت لہجہ مستقبل کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اس کا مثبت رخ ہے، یورپ دفاعی خودمختاری کی طرف مائل ہو سکتا ہے، امریکہ اور یورپ کے درمیان عملی تعاون میں نئے ڈھانچے تشکیل پا سکتے ہیں۔ اور منفی پہلو یہ ہے، سفارتی تناؤ میں اضافہ، نیٹو کی کمزور ہوتی داخلی ہم آہنگی، یورپی ممالک کا امریکی پالیسیوں پر عدم اعتماد۔ ٹرمپ انتظامیہ کی قومی سلامتی دستاویز ایک سخت سیاسی بیانیہ پیش کرتی ہے جس کا مقصد یورپ پر دباؤ بڑھانا، مہاجرت مخالف ایجنڈے کو تقویت دینا، اور نیٹو میں امریکی بوجھ کم کرنے کے لیے رائے عامہ تیار کرنا ہے۔ اگرچہ یورپ کو واقعی آبادیاتی، سیاسی اور دفاعی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن "20 سال میں یورپی تہذیب کے خاتمے" کا دعویٰ مبالغہ آمیز اور سیاسی رنگ لیے ہوئے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قومی سلامتی کی حکمت ٹرمپ انتظامیہ ممالک میں غیر کیا گیا ہے کہ کے مستقبل پر دستاویز میں یورپی ممالک یوکرین جنگ میں امریکہ ہے کہ یورپ امریکہ کے اور سیاسی میں یورپ یورپ میں پر الزام نیٹو کے یورپ کی رہا ہے پر بھی کے بعض کی گئی گئی ہے جنگ کے

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی