چمن، پاک افغان بارڈر پر جھڑپ، باب دوستی کو نقصان
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
گزشتہ شب چمن بارڈر پر ہونیوالے تصادم میں کسی فریق کیجانب سے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم سرحدی گزرگاہ باب دوستی کی تباہی کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاک افغان سرحد باب دوستی پر افغان طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں باب دوستی کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق جھڑپ افغان طالبان نے شروع کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے سماجی رابطے کی سائٹ "ایکس" پر دعویٰ کیا کہ افغان طالبان نے چمن بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فورسز نے قندھار کے ضلع سپین بولدک میں فائرنگ کی، جس کے جواب میں امارت اسلامیہ کی فورسز نے کارروائی کی۔ تازہ جھڑپ کے مناظر میں مقامی لوگوں کو جھڑپ کے مقام سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ چمن کی سرحدی گزرگاہ "بابِ دوستی" کی تباہی کے مناظر بھی سامنے آئے۔ گزشتہ شب ہونے والے تصادم میں کسی فریق کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ پچاس دن سے زیادہ لوگوں کی آمدورفت معطل ہے اور تجارتی راستے تقریباً بند پڑے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے صرف افغان شہریوں کو واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان طالبان باب دوستی
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔