ڈرون حملے کے بعد رمضان قادریوف کی یوکرین کو جوابی کارروائی کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روس کی نیم خودمختار مسلم اکثریتی ریاست چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی پر یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعے کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں ایک یوکرینی ڈرون نے گروزنی کی ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم قادریوف کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے کہا کہ عام شہریوں یا عام عمارتوں پر حملے کا کوئی جواز نہیں اور اس قسم کے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ یوکرینی حملے کا جواب کل سے شروع ہونے والے ایک ہفتے کے دوران دیا جائے گا، چیچن فورسز پرامن اہداف کو نشانہ نہیں بنائیں گی بلکہ صرف حملہ آوروں کو اپنی کارروائی کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور کریں گی۔
یوکرین کی جانب سے اس سے قبل بھی چیچنیا پر ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں پولیس بیرک اور ایک فوجی تربیتی اکیڈمی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ رمضان قادریوف یوکرین پر حملوں کے سرگرم حامی رہے ہیں اور انہوں نے یوکرین کے محاذ پر چیچن فورسز بھی بھیجی ہوئی ہیں۔
اس واقعے نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور عالمی سطح پر خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ خطے میں تصادم کے امکانات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔