پاکستان نے بھارتی ماہی گیر کی لاش واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان نے گزشتہ ماہ ملیر جیل کراچی میں انتقال کرنے والے بھارتی ماہی گیر سیونو رانا کی لاش تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دی۔ 57 سالہ سیونو رانا دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گیا تھا اور اس حوالے سے پاکستانی حکام نے فوری طور پر بھارت کو آگاہ کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق سیونو رانا کو طبیعت خراب ہونے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، ڈاکٹرز کی کوششوں کے باوجود وہ 19 نومبر کو جانبر نہ ہوسکا بعدازاں بھارتی حکام کو اس کی موت اور ابتدائی معلومات فراہم کی گئیں، بھارتی حکومت کی جانب سے اس کی شہریت کی تصدیق کے بعد گزشتہ روز لاش باضابطہ طور پر واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے حوالے کر دی گئی۔
ایدھی فاؤنڈیشن نے بھارتی شہری کی میت کو کراچی سے لاہور تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ لاہور پہنچنے کے بعد ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی گئی، اس کے بعد پاکستانی حکام نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت لاش بھارتی حکام کے سپرد کی۔
سیونو رانا کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھارت کی مشرقی ریاست کے علاقے مدناپور کا رہائشی تھا، وہ دو سال قبل اپنے گاؤں سے گجرات کے ساحلی علاقے گیا تھا جہاں سے سمندر میں مچھلی پکڑتے ہوئے مبینہ طور پر سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے باعث پاکستانی حکام کی حراست میں آ گیا تھا، اس کی گرفتاری کی درست تاریخ پاکستانی ریکارڈ میں موجود نہیں تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری حدود کے تنازعات کے باعث دونوں ممالک کی جیلوں میں درجنوں ماہی گیر قید ہیں۔ اکثر ماہی گیر نادانستہ طور پر ایک دوسرے کے پانیوں میں داخل ہو جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے انسانی حقوق کے ادارے طویل عرصے سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ایسے ماہی گیروں کی فوری رہائی اور بحفاظت واپسی کے لیے مشترکہ مستقل میکانزم قائم کیا جائے تاکہ انسانی بنیادوں پر مسائل کم ہو سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی حکام سیونو رانا ماہی گیر کے بعد
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔