میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف کارروائی، 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکیوں کی بازیابی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران مقامی فوج نے 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکی شہریوں کو بازیاب کرالیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ افراد مختلف آن لائن فراڈ نیٹ ورکس میں زبردستی کام پر مجبور کیے جارہے تھے۔
تھائی آرمی نے میانمار سرحد عبور کرکے 38 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کیا اور انہیں بنکاک امیگریشن سینٹر منتقل کردیا، جہاں سے انہیں مرحلہ وار پاکستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تھائی حکام نے پاکستانی حکومت کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے۔
تھائی حکومت کا کہنا ہے کہ میانمار میں مزید 60 پاکستانی ایک شیلٹر ہاؤس میں موجود ہیں، جو مختلف فراڈ سینٹرز سے فرار ہوکر وہاں پہنچے تھے۔
حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد سے تفصیلی تفتیش کی جائے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ تھائی حکومت نے واپس آنے والے پاکستانیوں کے نام پانچ سال کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے کی سفارش بھی کی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا آن لائن فراڈ کے بڑے مراکز بن چکے ہیں، جہاں فراڈ سینٹرز چلانے والے گروہ آن لائن نوکریوں اور ورک ویزوں کا لالچ دے کر نوجوانوں کو بیرون ممالک بلاتے ہیں۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں جانے والے پاکستانی نوجوانوں کو قید کرکے غیر قانونی کام کرایا جاتا ہے، لہٰذا عوام ایسے دھوکے باز اشتہارات اور جعلی ویزوں کے جال میں نہ پھنسیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آن لائن فراڈ فراڈ سینٹرز
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔