چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت 5 سال، دوبارہ تعیناتی بھی ہو سکتی ہے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی مدت 5 سال ہے، اور مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تعیناتی بھی ہو سکتی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی اہم تعیناتی کے لیے آئینی ترمیم کی گئی۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی، وزیراعظم نے سمری ایوان صدر بھجوا دی
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اب آئین میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی عمر نہیں ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظوری کے بعد ایوان صدر بھجوا دی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، یہ تعیناتی 5 سال کے لیے ہے۔ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔
واضح رہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 245 میں ترمیم کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں 2 سال توسیع کی منظوری دیدی
اس ترمیم کے بعد چیئرمین چوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوگیا ہے، اور جنرل ساحر شمشاد مرزا آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تھے جو 27 نومبر کو ریٹائر ہوگئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews چیف آف ڈیفنس فورسز رانا ثنااللہ سید عاصم منیر فیلڈ مارشل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف آف ڈیفنس فورسز رانا ثنااللہ فیلڈ مارشل وی نیوز چیف ا ف ڈیفنس فورسز چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔