چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاکستان کا بھرپور اور مؤثر جواب
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
چمن سیکٹر میں افغان طالبان عناصر کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جو سرحدی استحکام اور علاقائی امن کے لیے نہایت خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور انتہائی مؤثر انداز میں جواب دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ پاکستان کی سرحدی خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: استنبول مذاکرات کے دوران افغانستان کی چمن سرحد پر فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب
چمن بارڈر پر یہ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ کابل انتظامیہ اپنے غیر تربیت یافتہ اور بے لگام سرحدی اہلکاروں کو قابو میں رکھے، جن کی کارروائیاں نہ صرف علاقائی امن کو متاثر کرتی ہیں بلکہ خود افغانستان کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
پاکستانی فورسز کا ردِعمل نہایت پیشہ ورانہ، متوازن اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے محدود پیمانے پر تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اشتعال کے باوجود ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی نظم و ضبط کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان موجود میکنزم اہم ہے، اور افغان طالبان کی یک طرفہ خلاف ورزیاں نہ صرف اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں بلکہ سرحد کے دونوں طرف رہنے والی مقامی آبادیوں کو بھی مشکلات میں مبتلا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے پرعزم ہے، تاہم امن صرف یک طرفہ کوششوں سے قائم نہیں رہ سکتا۔ کابل کی جانب سے عسکری دباؤ ڈالنے کی کوششیں ماضی میں بھی ناکام رہی ہیں اور چمن سیکٹر میں پاکستان کا بروقت جواب اس حقیقت کی واضح یاددہانی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہے کہ اکستانی سیکیورٹی فورسز نے ہائی الرٹ ہیں، مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت پر پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ردِعمل دیا جائے گا۔ جارحیت کی ذمہ داری صرف اسی فریق پر عائد ہوتی ہے جو بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان پاک افغان سرحد فائرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان پاک افغان سرحد فائرنگ افغان طالبان کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔