کے پی میں دہشت گردی اور سیاست کا گٹھ جوڑ ہے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور سیاست کا گٹھ جوڑ موجود ہے، منشیات کا پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہورہا ہے، دہشت گردی کی مذمت کے بجائے آج بھی افغان طالبان کی حمایت میں بیان دیے جا رہے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں عطا اللّٰہ تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ کے پی واحد صوبہ ہے جس میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلانے کی اجازت ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف صوبائی حکومت نے کارروائی کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی اور افغانستان کے چینلز پر جاکر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں انٹرویوز دیتی ہیں، بھارتی چینلز پر جاکر یہ لوگ ملک کو بدنام کررہے ہیں، انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ترجیحات امن، ترقی اور عوامی ریلیف کے بجائے دن رات اسلام آباد میں اسی غیر قانونی بیانیے کے گرد گھمارہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انڈین اور افغان چینلز پر ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے، لیکن مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بات نہیں کی گئی، بانی پی ٹی آئی صحت مند ہیں لیکن ان کی صحت پر پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ افواہوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے توجہ ہٹانا ہے، پی ٹی آئی کا بھارت سے گٹھ جوڑ ہے، فوج کے خلاف بات کرنے والے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چلتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی میں برسر اقتدار لوگوں کی جیبیں بھری جاتی ہیں، کوئی دہشت گرد ان پر حملہ نہیں کرتا جنہوں نے ڈرگ کی ٹریڈ کی ہوئی ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کا منشیات فروشوں کے ساتھ تعلق ہے، آج بھی کے پی میں غیرقانونی طور پر پہاڑ کاٹے جارہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افواج پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے آپ نے 9 مئی کا منصوبہ بنایا، پی ٹی آئی نے فوج کو افواہوں کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی نے کہا کہ عطا تارڑ
پڑھیں:
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ‘ ٹرمپ نے واقعہ’’ دہشت گردی ‘‘قرار دے دیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-08-20
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہاؤس سے چند بلاکس کے فاصلے پر دن دہاڑے فائرنگ کے واقعے میں امریکی نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی ہوگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو ’دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ اس واقعے میں 2 اہلکار شدید زخمی ہوئے، جو ’بدی، نفرت اور دہشت گردی کا عمل تھا، یہ ہمارے پورے ملک کے خلاف ایک جرم تھا۔امریکی صدر نے تصدیق کی کہ دن کی روشنی میں وائٹ ہاؤس سے دو بلاکس کے فاصلے پر ہونے والی فائرنگ کے بعد زیر حراست شخص افغانستان سے آیا ہوا غیر ملکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اب افغانستان سے آنے والے ہر فرد کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ضروری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ایسے تمام غیر ملکیوں کو ملک سے نکالا جا سکے جو یہاں کے نہیں، یا جو ہمارے ملک کو فائدہ نہ پہنچائیں، اگر وہ ہمارے ملک سے محبت نہیں کرتے تو ہم انہیں نہیں چاہتے۔ واقعے کے وقت ٹرمپ فلوریڈا میں تھے، فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو مختصر طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا، جب کہ وفاقی اور مقامی اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے۔واشنگٹن کی میئر میوریل باؤزر نے اسے ’ٹارگٹڈ شوٹنگ‘ قرار دیا جو ایک ہی شخص نے کی، انہوں نے کہا کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔فائرنگ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2:15 بجے اس وقت ہوئی جب دونوں فوجی (ایک مرد اور ایک خاتون) ہائی ویزیبلٹی پیٹرولنگ کر رہے تھے۔