افغان طالبان دہشت گردوں کے سہولت کار : ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے 4 نومبر 2025ء سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، رواں سال صوبہ خیبر پی کے میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے‘ 25 نومبر کو سینئر صحافیوں سے گفتگوں کی مزید تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغان بھی شامل ہیں‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔ خیبر پی کے میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں۔ پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے، بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو۔ اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہونگے۔ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پی کے میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں۔ ایسی صورت حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں۔ اسکے برعکس افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔ اگر افغان بارڈر سے متصل علاقوں کو دیکھا جائے تو وہاں آپکو بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ دیکھنے کو ملتا ہے جو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسکی سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں۔ اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آرہی ہیں یا غیر قانونی سمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہے تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں۔ افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے وہاں سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے ہم نے انکے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ پاکستان کے اس موقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کر کے آئے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں، غیر منطقی ہے۔ اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ہمارے حوالے کریں، ہم انکو اپنے قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔ یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں؟ SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم خیبر پی کے میں پاکستان کا کے دوران ڈیزل کی کے خلاف
پڑھیں:
افغان رجیم پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ افغان طالبان کی موجودہ رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق رواں سال دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں 1873 دہشتگرد مارے گئے جن میں 136 افغان شہری شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں۔ 4 نومبر 2025 سے اب تک کے 4910 آپریشنز میں 206 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
انہوں نے بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاک افغان سرحد مشکل اور طویل ہے، اور اس کی مؤثر نگرانی دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی میں افغان طالبان کی سہولت کاری واضح ہے، اور سرحدی علاقوں میں دہشتگرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں نے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ طالبان نے دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ القاعدہ، داعش اور دیگر تنظیموں کی قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور وہاں سے اسلحہ و فنڈنگ حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 اور 2025 میں 971,604 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا، صرف نومبر میں 239,574 افراد واپس گئے۔
بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ انڈین آرمی چیف کے بیانات حقیقت کے منافی ہیں اور وہ اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف زہریلا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خاتمے کا واحد طریقہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہے، جس کے لیے بلوچستان میں مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔