PTAکاTAP لائسنس ہولڈرز کیلئےنئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نےٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر پرووائیڈرز لائسنس ہولڈرز کی ناقص کارکردگی پر سخت نگرانی کا فیصلہ کرلیا۔ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر پرووائیڈرلائسنس ہولڈرزکی ناقص کارکردگی کا نوٹس لےلیا،زیادہ تر لائسنس ہولڈرز بنیادی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے،ٹی آئی پی لائسنس ہولڈرز کیلئےسخت رول آؤٹ تقاضےمتعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا،ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر میں اضافے کیلئے لائسنس میں سخت شرائط شامل ہیں۔
پی ٹی اے نےغیرفعال لائسنس ہولڈرزکی بڑی تعداد پرتشویش کا اظہارکیا ہے،کمزوررول آؤٹ اور غیر فعال لائسنسز پر شدید تشویش کا اظہارکیا،اب سخت شرائط اورسالانہ اہداف لازمی پورے کرنے ہوں گے۔دستاویز کےمطابق لائسنس ہولڈرزکیلئےسالانہ 60 کلومیٹر فائبربچھانا لازم ہوگا،ٹی آئی پی آپریٹرز کو ہرسال 10 ٹاورز یا ریڈیو لنکس لگانا ہوں گے،سب میرین کیبل لینڈنگ اسٹیشنز کےقیام کی ٹائم لائن پر عملدرآمد ضروری ہوگا۔
پی ٹی اے دستاویز کےمطابق زیادہ تر ٹی آئی پی لائسنس ہولڈرز نے لائسنس کے تقاضے پورے نہیں کیے ، 24 میں سے صرف 14 ٹی آئی پی لائسنس ہولڈرز نے فائبر نیٹ ورک بچھایا،6کمپنیوں نے 300 کلومیٹر یا اس سے زائد فائبر بچھایا،لازمی رول آؤٹ سے غیر فعال لائسنسز کا خاتمہ ہوگا،
دستاویز کےمطابق کمزور رول آؤٹ قومی براڈبینڈ اہداف کے حصول کو متاثر کر رہا ہے،مجوزہ اصلاحات سے ٹیلی کام انفرااسٹرکچرمیں نمایاں بہتری آئے گی۔نئی پالیسی سےسرمایہ کاری بڑھےگی اورفائبرائزیشن کے اہداف تیز ہوں گے،پی ٹی اے نے اسٹیک ہولڈرز سے ان کی رائے اور متبادل تجاویز بھی طلب کرلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔