عالمی ادارہ صحت نے بانجھ پن پر پہلی عالمی ہدایات جاری کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنیوا: عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں بانجھ پن (Infertility) سے ہر چھ میں سے ایک شخص متاثر ہے, ادارے نے اس ضمن میں اپنی پہلی عالمی ہدایت نامہ بھی جاری کی ہے، جس میں بانجھ پن کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے سفارشات شامل ہیں۔
WHO کے مطابق بانجھ پن کے علاج تک رسائی اب بھی شدید محدود ہے, بہت سے ممالک میں ٹیسٹ اور علاج زیادہ تر خود ادائیگی پر مبنی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد پر مالی بوجھ پڑتا ہے, کچھ ممالک میں IVF کا ایک راؤنڈ عام گھرانوں کی سالانہ آمدنی سے دگنا خرچ رکھتا ہے۔
WHO کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گھیبریسوس نے کہاکہ بانجھ پن آج کے وقت کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے صحت کے چیلنجز میں سے ایک ہے اور یہ عالمی سطح پر ایک اہم مساواتی مسئلہ ہے، لاکھوں افراد علاج کے لیے مالی طور پر محدود ہیں، سستی مگر غیر یقینی علاج کی طرف مائل ہیں یا بچوں کی امید اور مالی تحفظ کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔
ہدایت نامے میں 40 سفارشات شامل ہیں، جن میں بانجھ پن کی عام وجوہات کی تشخیص، مشورہ اور وقت کی ترتیب، اور علاج کے مراحل جیسے انٹرا یوٹیرین انسیمنیشن (IUI) یا IVF شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہدایت نامے میں نفسیاتی معاونت، طرزِ زندگی کی بہتری، صحت مند غذا، جسمانی سرگرمی، تمباکو نوشی ترک کرنا اور دیگر اقدامات کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
WHO نے بانجھ پن کے سماجی دباو، مالی مشکلات اور اس سے پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل صنفی مساوات اور تولیدی حقوق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
پاسکل ایلویٹی، WHO کے شعبہ جنسی، تولیدی، ماں و بچے کی صحت اور عمر رسیدگی کی ڈائریکٹر نے کہا کہ بانجھ پن کی روک تھام اور علاج کے لیے نہ صرف طبی بلکہ سماجی اور حقوقی پہلوؤں پر بھی توجہ ضروری ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
تنخواہ کو مہینے کے آخر تک لے جانے کے 20 مؤثر طریقے
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ماہ کے اختتام پر مالی دباؤ ایک عام مسئلہ ہے، اکثر لوگ مہینے کی بیس تاریخ کے بعد اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ یہ صرف معاشی دباؤ نہیں بلکہ مالی منصوبہ بندی میں کمی اور ترجیحات کی غلطی کا نتیجہ بھی ہے، ماہرین نے ایسی 20 حکمتِ عملی پیش کی ہیں جو تنخواہ کو پورے مہینے تک موثر انداز میں چلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
1۔ ماہانہ بجٹ کی تیاری
تنخواہ ملتے ہی سب سے پہلے ماہانہ بجٹ تیار کرنا ضروری ہے۔ آمدن کے مطابق ضروری اور غیر ضروری اخراجات کی تفصیل مرتب کر کے خرچ کو منظم کیا جا سکتا ہے۔
2۔ بچت کو ترجیح دیں
ہر مہینے اپنی آمدن کا 10 سے 15 فیصد حصہ سب سے پہلے بچت میں ڈالیں۔ یہ عادت مالی مشکلات سے بچانے اور مستقبل کے لیے سرمایہ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
3۔ لفافہ سسٹم اپنائیں
روزمرہ اخراجات کے لیے مختلف لفافے رکھیں، جیسے راشن، بجلی، پانی، فون اور ٹرانسپورٹ۔ اس سے غیر ضروری خرچ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
4۔ غیر ضروری سبسکرپشنز ختم کریں
موبائل ڈیٹا پیکجز اور غیر ضروری سبسکرپشنز پر ہر ماہ 1000 سے 2000 روپے ضائع ہو جاتے ہیں۔ فوری غیر ضروری سبسکرپشنز بند کر دیں۔
5۔ مہینے کا بڑا راشن ایک بار خریدیں
روزانہ چھوٹی چھوٹی خریداری بجٹ پر برا اثر ڈالتی ہے۔ بڑی مقدار میں راشن خرید کر مہینے بھر کے لیے ضروری سامان محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
6۔ گھر کا کھانا دفتر لے جائیں
دفتر میں روزانہ کھانے، چائے اور اسنیکس پر ہونے والا خرچ ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ گھر سے تیار کھانا لے جانا بجٹ بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔
7۔ غیر ضروری تقریبات میں کمی کریں
بار بار کی دعوتوں، تحائف اور دیگر سوشل تقریبات میں شرکت مالی دباؤ بڑھا دیتی ہے۔ ضروری اور اہم تقریبات تک محدود رہیں۔
8۔ سستی ٹرانسپورٹ استعمال کریں
پبلک ٹرانسپورٹ، بائیک شیئرنگ یا کار پولنگ کا استعمال سفر کے اخراجات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔
9۔ قسطوں پر خریداری سے گریز کریں
قسطوں پر اشیاء خریدنا وقتی سہولت فراہم کرتا ہے لیکن طویل مدت میں مالی دباؤ بڑھاتا ہے۔ ممکن ہو تو نقد خریداری کریں۔
10۔ کریڈٹ کارڈ استعمال میں محتاط رہیں
کریڈٹ کارڈ آسان خرچ کی سہولت دیتا ہے مگر ادائیگی میں تاخیر سے سود اور مالی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
11۔ گھر میں بجلی کی بچت
غیر ضروری لائٹس، پنکھے اور اے سی بند رکھنا بجلی کے بل کو کم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
12۔ بچوں کے غیر ضروری اسکول اخراجات محدود کریں
مہنگے بیگز، جوتے اور اضافی سرگرمیاں بجٹ پر بوجھ ڈالتی ہیں۔ صرف ضروری اشیاء پر خرچ کریں۔
13۔ جمعہ بازار یا ہول سیل سے سبزی و فروٹ خریدیں
ہول سیل مارکیٹ میں قیمتیں عام دکانوں سے 30 سے 40 فیصد کم ہوتی ہیں، اس سے ماہانہ خرچ کم کیا جا سکتا ہے۔
14۔ آن لائن خریداری میں احتیاط
آن لائن سیلز پر ہر خریداری ضروری نہیں۔ غیر ضروری چیزیں صرف عارضی دل بہلانے کے لیے نہیں خریدنی چاہئیں۔
15۔ مہینے میں ایک بڑی تفریح
صرف ایک مرتبہ باہر کھانا یا تفریح کی اجازت دیں۔ بار بار عیاشی بجٹ پر برا اثر ڈالتی ہے۔
16۔ جنیرک برانڈز استعمال کریں
دوائیوں میں جنیرک برانڈز سستے اور معیاری ہوتے ہیں۔ اس سے 30 سے 60 فیصد تک رقم بچائی جا سکتی ہے۔
17۔ روزانہ اخراجات کا ریکارڈ رکھیں
موبائل ایپ میں روزانہ اخراجات لکھنے سے غیر ضروری خرچ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
18۔ غیر ضروری عادات ترک کریں
سگریٹ، پان، گٹکا اور غیر ضروری چائے کے استعمال سے بچیں۔ یہ صحت اور جیب دونوں پر بوجھ ڈالتی ہیں۔
19۔ اضافی آمدن کے ذرائع تلاش کریں
چھوٹے ہنر جیسے فری لانسنگ، ٹفن سروس، ٹیوشن یا ویڈیو ایڈیٹنگ سے ماہانہ آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔
20۔ گھر میں بجٹ میٹنگ کریں
گھر کے تمام افراد کے ساتھ بجٹ پر تبادلہ خیال مالی فیصلے بہتر بنانے اور اخراجات 15 سے 25 فیصد تک کم کرنے میں مددگار ہے۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر تنخواہ دار طبقہ ان اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کرے تو مہینے کے آخر میں مالی تنگی سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور بہتر مالی مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔