کیا جیل میں سیاسی ملاقاتوں پر پابندی صرف عمران خان پر ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان 28 ماہ سے جیل میں قید ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کا ٹرائل بھی جیل میں ہی چل رہا ہے۔ جیل میں ملاقات کے لیے ہفتے میں 2 دن یعنی منگل اور جمعرات مقرر ہیں جن میں عمران خان کی فیملی، وکلا اور سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کرائی جاتی تھی لیکن اب حکومت نے ان کی ملاقات پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ خان کی عمران خان سے ملاقات پر پابندی عائد، اب اڈیالہ جیل کے باہر تماشا نہیں لگانے دیں گے، حکومت
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 4 نومبر کے بعد سے عمران خان سے کسی کی بھی ملاقات نہیں کروائی جا رہی تھی تاہم 3 روز قبل ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات کروائی گئی لیکن اس کے بعد سے ملاقاتوں پر پابندی پھر لگ چکی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عظمیٰ خان نے ملاقات کا احوال میڈیا سے شیئر کرکے قانون کی خلاف ورزی کی اس لیے ان کی ملاقات بھی روک دی گئی ہے۔ سہیل آفریدی پر پہلے سے ہی ملاقات کرنے پر پابندی عائد ہے۔
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا جیل میں سیاسی ملاقاتوں پر پابندی صرف عمران خان تک محدود ہے یا ماضی میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی ایسی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔
سیاسی گفتگو ہوسکتی ہے فساد برپا کرنے والی بات چیت نہیں، ملک ابرارمسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک ابرار نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو کی اجازت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھی نواز شریف سے جیل میں سیاسی گفتگو کرتے تھے لیکن ملکی مفاد کے خلاف بات چیت یا بھارتی ایجنڈے پر گفتگو ہرگز نہیں ہوسکتی۔
مزید پڑھیے: عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی یا ملاقات سے ذاتی انکار، مسئلہ ہے کیا؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی رہنما صرف سیاست پر بات کریں تو ملاقات ممکن ہے لیکن وہ انتشار اور فساد پر گفتگو کرتے ہیں اس لیے انہیں اجازت نہیں ملتی۔
ارادے کچھ اور ہوں تو ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں، آغا رفیع اللہپیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری بھی جیل میں سیاسی ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ پی ٹی آئی ورکر اور رہنما کمپرومائزڈ ہیں اس لیے ملاقات نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی صحت، ملاقاتوں اور سہولیات سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اگر ورکر کا حوصلہ، ہمت اور ارادہ درست ہو تو ملاقات میں رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں لیکن ارادے کچھ اور ہو تو ایسی صورت میں ملاقاتیں نہیں ہو سکتیں۔
نواز شریف سے ملاقاتیں مختصر ہوا کرتی تھیں، ابصار عالمسینیئر صحافی ابصار عالم نے وی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے کئی بار ملاقات کی ہے لیکن ملاقات مختصر ہوتی تھی اور صرف حال احوال پوچھنے کا موقع ملتا تھا، تفصیلی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
جیل میں ملاقات کے دوران نواز شریف سیاسی گفتگو بھی کرتے تھے، عارف ملکوی نیوز کے نمائندے عارف ملک نے بتایا کہ کوٹ لکھپت جیل میں ان کی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں سیاسی گفتگو بھی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے پارٹی رہنما اور صحافی ہر ہفتے ملتے تھے اور سیاسی گفتگو بھی جیل سے باہر بیان کی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کس حال میں ہیں؟ بہن نے ملاقات کے بعد سب کچھ بتا دیا
انہوں نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ بلاول بھٹو بھی نواز شریف سے ملنے گئے تھے اور ملاقات کے بعد میڈیا کو اس کا احوال بتایا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کی تشکیل ہوئی۔
مختلف خدشات پر سپرنٹینڈینٹ جیل ملاقات روک سکتا ہے، اعظم نذیر تارڑوزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ جیل مینوئل کے مطابق قیدی سے ملاقات کے مختلف رولز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رول 265 کے مطابق قیدی کی ہفتے میں ایک ملاقات کروائی جاسکتی ہے اور یہ ملاقات 6 لوگوں تک محدود ہوگی اور ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی، قانون کے مطابق ملاقاتیں نجی ہوں گی، ان میں ملکی حالات پر کوئی بات یا جیل اور سیاست پر بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جو گفتگو ملاقات کے دوران ہوگی وہ پبلک نہیں کی جائے گی، یعنی اس پر ٹوئٹ نہیں کیا جائے گا، سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کی جائے گی، ٹی وی پر نہیں چلے گی یا پریس ریلیز جاری نہیں کی جائے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی بھی قیدی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ سپرنٹینڈینٹ جیل کی نگرانی کے بغیر ملاقات کرے، اگر جیل سپرنٹینڈینٹ سمجھیں کہ ملاقاتوں میں رولز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ ملاقاتیں روک بھی سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: عمران خان سے ملاقاتوں میں نہ سیاسی گفتگو ہو اور نہ ہی باہر آکر پریس کانفرنس ہو، رانا ثنا اللہ
ان کا کہنا تھا کہ اگر سپرنٹینڈینٹ جیل کو یہ اندیشہ ہو کہ ملاقاتوں کے احوال پبلک کیے جائیں گے اور ایسا ہونے سے نقص امن کا خدشہ ہے تو وہ ملاقاتیں روک سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل میں ملاقات پی ٹی آئی عمران خان عمران خان سے ملاقات عمران خان کی بہنیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل میں ملاقات پی ٹی ا ئی عمران خان سے ملاقات عمران خان کی بہنیں ملاقاتوں پر پابندی انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں جیل میں سیاسی عمران خان کی نواز شریف سے سیاسی گفتگو اجازت نہیں میں ملاقات کی ملاقات ملاقات کے سے ملاقات نہیں ہو نہیں کی کے بعد
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔