مسلمانوں پر حکومتی ظلم کے حوالے سے مولانا محمود مدنی کے بیان پر بی جے پی کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
جمعیت علماء ہند کے سربراہ نے کہا تھا کہ بابری مسجد، تین طلاق اور دیگر فیصلوں کے بعد یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ عدلیہ حکومتی دباؤ میں کام کررہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء ہند (جے یو ایچ) کے سربراہ مولانا محمود مدنی کے اس بیان پر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی عدالتیں حکومتی دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس بیان کا از خود نوٹس لے۔ بھونیشور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سمبت پاترا نے کہا کہ ایک عام شہری کی حیثیت سے میں سپریم کورٹ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مولانا محمود مدنی کے بیان پر ازخود نوٹس لے، ملک کی سب سے بڑی عدالت فیصلوں میں کبھی مذہب نہیں دیکھتی۔
مولانا محمود مدنی نے بھوپال میں جمعیت علماء ہند کے نیشنل گورننگ باڈی اجلاس میں کہا تھا کہ بابری مسجد، تین طلاق اور دیگر فیصلوں کے بعد یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ عدلیہ حکومتی دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپر یم کورٹ تب ہی سپریم کہلانے کی مستحق ہے جب وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرے، ورنہ اسے "سپریم" نہیں کہا جا سکتا۔ مولانا محمود مدنی نے "وندے ماترم" سے متعلق بھی رائے ظاہر کی جس پر بی جے پی نے شدید ردعمل دیا۔ سمبت پاترا نے کہا کہ وندے ماترم کسی مذہب کی ملکیت نہیں، یہ ہماری زمین کی عظمت اور قربانیوں کی علامت ہے۔ مولانا محمود مدنی کی یہ سیاست ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ بی جے پی ترجمان کے مطابق ملک اس وقت "وندے ماترم" کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے اور ایسے موقع پر اس کے خلاف بیان دینا "ملک دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی" ہے۔
سمبت پاترا نے مولانا محمود مدنی کے استعمال کردہ لفظ "جہاد" پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاد جیسا لفظ بے حد غیر ذمہ دارانہ ہے اور "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کی سوچ کے خلاف جاتا ہے، کسی ذمہ دار لیڈر کو ایسے الفاظ سے لوگوں کو بھڑکانا نہیں چاہیئے۔ اپنے بھوپال خطاب میں مولانا محمود مدنی نے کہا تھا کہ منظم کوششیں جاری ہیں جن کے ذریعے ایک مخصوص طبقہ کی بالادستی قائم کرنے اور دیگر طبقات کو قانونی، سماجی اور معاشی طور پر بے حیثیت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے معاشی بائیکاٹ، بلڈوزر کارروائیوں، ماب لنچنگ، اوقاف کو کمزور کرنے اور مدارس کے خلاف منفی مہم کو منصوبہ بند اقدامات قرار دیا۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھی مدنی کے بیان کو "اشتعال انگیز" اور "ناقابل قبول" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ اور باعزت مقام بھارت میں پاتے ہیں۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے قومی ترجمان ونود بنسل نے مولانا محمود مدنی کے بیان کو "قوم اور عدلیہ کے خلاف خطرہ" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسے بیانات "ملک کی تھالی میں چھید کرنے" کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق مولانا محمود مدنی جیسے رہنما "جہاد" کے نام پر نوجوانوں کو بھڑکا کر شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں، جو ملک کی یکجہتی اور سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا محمود مدنی کے سمبت پاترا نے مدنی کے کہا تھا کہ بی جے پی کے خلاف نے کہا ملک کی
پڑھیں:
بھارت میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جانا ناقابلِ معافی جرم ہے، ثروت اعجاز قادری
چیئرمین پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ بھارت میں نفرت کا یہ کھیل نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے میں فرقہ واریت، مذہبی کشیدگی اور بدامنی کی صورت میں سامنے آئیں گے، جس کا ذمہ دار صرف اور صرف بھارتی قیادت اور انتہا پسند سوچ ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے بھارت میں پاکستان کے خلاف جنگ اور کرکٹ میچ کے بعد مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے تعصب، نفرت انگیزی اور انتقامی کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا ایک مخصوص طبقہ جنگ اور کھیل کا غصہ مسلمانوں پر نکال کر دنیا کے سامنے اپنے اصل چہرے کو ننگا کر رہا ہے، کھیل ایک عالمی رابطے اور امن کا ذریعہ ہے، مگر بھارت میں انتہا پسندی، زہریلی سیاست اور مذہبی جنونیت کی انتہا ہے۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ بھارتی حکمران اپنی سیاسی ناکامیوں، سماجی بگاڑ اور اندرونی بدامنی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہمیشہ کمزور اور غیر محفوظ اقلیتوں کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کسی حادثاتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت چلائی جانے والی مہم ہے، جس میں انتہا پسند گروہوں کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے۔