راستہ تبدیل نہیں ہوگا، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کرینگے: فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
مردان:(نیوزڈیسک) سربراہ جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپنا راستہ تبدیل نہیں کریں گے، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے بابوزئی میں تکمیل حفظ القرآن کریم الجامعہ الاسلامیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی اُمیدوں والا ملک ہونا چاہیے تھا، ہم نے ایسا ملک چاہا تھا جہاں آزادی کے ساتھ دینی اعمال کی ادائیگی ممکن ہو۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ ملک امن، بھائی چارے اور آزادی کی علامت ہونا چاہیے تھا، حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ان کے حقوق دیں، آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے، عوام کی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی خواہش پر آئینی ترامیم ہو رہی ہیں۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ عوام کی خواہشات پر شب خون مارا جا رہا ہے، 27ویں ترمیم کیلئے لوگوں کو خرید کر دو تہائی اکثریت بنائی گئی، کھوکھلی اکثریت سے 27ویں ترمیم منظور کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سی پیک آج بھی بند پڑا ہے، افغان پالیسی پر پاکستان کی سفارت کاری ناکام رہی، جنگ کی باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے، ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف ٹرمپ کو اَمن کا نوبل انعام دینے کی بات کر رہے ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، مسلح کارروائیوں کے حق میں نہیں ہوں، مسلح گروہ جنگ ترک کریں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، دوران گفتگو انہوں نے کہا اپنا راستہ تبدیل نہیں کریں گے، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے، ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔