پی ٹی آئی دہشتگردی کیخلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے، پی ٹی آئی کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن کبھی سرخ لکیر عبور نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے، بیرسٹر گوہر کو کوئی لفٹ نہیں کراتا، ان کی پارٹی کے ورکرز ان کے خلاف بیان دیتے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیا بات کریں گے جب ان کی اپنی پارٹی مخالفانہ بیانات دے رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن نے بھارتی میڈیا سے جوبات چیت کی وہ تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ سیاستدانوں سے بات کرنے سے انکار کرتے رہے، پی ٹی آئی کےجس بھی شخص نے پاکستان مخالف بات کی ہے، اس کی پارٹی نے ایک بار بھی مذمت نہیں کی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ نوازشریف نے ماضی میں جو بھارتی میڈیا کو انٹرویوز دیے، اس میں کبھی پاکستان کے وجود اور سالمیت کے خلاف بات نہیں کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لیڈر کو پھانسی دی گئی، اس کے باوجود انہوں نے 9 مئی جیسا واقعہ نہیں کیا، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا پیپلز پارٹی نے تو کبھی بھارت کو آواز نہیں دی۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کو قید کیا گیا ان کو 3 مرتبہ ہٹایا گیا لیکن کبھی ریڈلائن کراس نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف پی ٹی ا ئی وزیر دفاع خلاف جنگ نہیں کی کے خلاف نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔