قابض صیہونی رژیم کی نئی شرارت کے بارے پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اپنے ایک مشترکہ بیان میں 8 عرب و اسلامی ممالک نے رفح بارڈر کراسنگ کے "یکطرفہ طور پر کھولے جانے" کے بارے خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غزہ کے لوگوں کو "جبری نقل مکانی" پر مجبور کرنا ہے اسلام ٹائمز۔ 8 عرب و اسلامی ممالک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں غزہ کی پٹی کے مکینوں کو مصر منتقل کرنے کے لئے رفح بارڈر کراسنگ کو "یکطرفہ طور پر کھولنے" کے بارے اسرائیل کے حالیہ بیانات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس بیان میں مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، اردن، پاکستان، ترکی اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے تاکید کی کہ فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے "جبری نقل مکانی" پر مجبور کرنے سے متعلق کسی بھی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے نیز یہ کہ کسی بھی فریق کو غزہ کی آبادی کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کا حق حاصل نہیں۔
اپنے مشترکہ بیان کے ایک دوسرے حصے میں مذکورہ ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے پر "مکمل عملدرآمد" کی ضرورت پر زور دیا کہ جس میں رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنے، غزہ کے باشندوں کے لئے نقل و حرکت کی آزادی کی ضمانت، علاقے سے کسی بھی "جبری نقل مکانی" پر پابندی اور لوگوں کے لئے غزہ میں باقی رہنے نیز مستقبل کی تعمیر نو میں حصہ لینے کے لئے موزوں حالات پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے "خطے میں امن کے قیام کے لئے ٹرمپ کے عزم" کو بھی سراہا اور "ٹرمپ منصوبے کی تمام شقوں کے بلا تاخیر یا رکاوٹ نفاذ" پر بھی زور دیا کہ جو ان کے بقول، "خطے میں امن و سلامتی" کو مستحکم کر سکتے ہیں۔
اس بیان میں غزہ کی پٹی میں سنگین انسانی حالات کا بھی حوالہ دیا گیا اور جنگ بندی کے مکمل استحکام، شہریوں کی تکالیف کا خاتمہ اور انسانی امداد کے غیر مشروط داخلے پر بھی زور دیا گیا۔ آٹھوں وزرائے خارجہ نے جلد از جلد تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے لئے کوششیں شروع کئے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور فلسطینی علاقوں میں دیرپا استحکام پیدا کرنے کے عمل کے ایک حصے کے طور پر "فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے غزہ کے انتظام و انصرام کے لئے حالات پیدا کرنے" کو بھی ضروری قرار دیا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک امریکہ کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ بھی تعاون و ہم آہنگی جاری رکھنے کو تیار ہیں کہ جس کا مقصد سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور دیگر متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اور "منصفانہ، جامع و پائیدار امن" کے حصول کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس حل کے مطابق، 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایک "آزاد فلسطینی ریاست" قائم کی جائے گی، جس میں غزہ اور مغربی کنارہ بھی شامل ہو گا اور اس کا دارالحکومت "مشرقی بیت المقدس" قرار پائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔