سعودی عرب، یو اے ای کو خاص طور پر پاکستانیوں سے متعدد شکایات ہیں جس کی وجہ سے وہاں پاکستان سے جانے والوں کو وہ عزت نہیں ملتی جو دوسروں کو ملتی ہے اور یہ شکایت پاکستانیوں کو بھی مگر کیوں ہے؟اس پر حکومت کی توجہ ہے نہ ہمیں فکر کہ انھی شکایتوں سے ملک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستانی اس سلسلے میں اپنے اعمال پر توجہ دینے کے بجائے کہتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کی اس طرف اس لیے توجہ نہیں کہ انھیں تو وہاں شان دار استقبال اور مہمان نوازی سے نوازا جاتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے حکمران ہیں اور وہاں پاکستان کی عزت بھی اب متاثر ہو رہی ہے جو وہاں ہمیشہ قرضوں اور مراعات و امداد کے لیے شاہانہ طور پر جاتے ہیں اور موجودہ وزیر اعظم اب تک سعودیہ کے 8 دورے کرچکے ہیں جب کہ سعودی حکمران سات آٹھ برس میں صرف ایک بار ہی پاکستان آئے اور موجودہ حکمران جن کے ان سے خصوصی تعلقات رہے ہیں کہ ساڑھے تین برس میں سعودی ولی عہد نے پاکستان کا کوئی دورہ نہیں کیا۔
مکہ و مدینہ ہر مسلمان کے لیے باعث تقدس مقامات ہیں جہاں دنیا بھر کے مسلمان حج و عمرے کے لیے جانا سعادت سمجھتے ہیں مگر وہاں جا کر خاص کر کچھ پاکستانی ایسے مذموم کام کر جاتے ہیں کہ جن سے پاکستان کی عزت پر حرف آتا ہے اور اسی لیے دبئی میں ہمارے داخلے پر پابندی اور ویزے کے حصول میں سختی بڑھ جاتی ہے۔
سعودیہ میں بھی اس بار عمرہ ویزوں پرکچھ عرصہ پابندی رہی اور عمرہ ویزے سخت پابندیوں میں اور تاخیر سے جاری ہو رہے ہیں۔ پہلے سعودیہ عمرے کے لیے تین ماہ کا ویزا جاری کرتا تھا، جس کی مدت اب ایک ماہ تک محدود کردی گئی ہے اور 28 دن کے خواہش مندوں کو ایک ماہ سے قبل ہی واپس آنا پڑتا ہے کیونکہ تین ماہ کے ویزوں کا غلط استعمال ہو رہا تھا۔ عمرہ کرکے وہاں روزگارکرنا، چھپ کر ملازمتیں کر لی جاتی تھیں اور بڑی تعداد میں وہاں بھکاریوں نے خیرات مانگنا اپنا مذموم دھندا بنا لیا تھا۔
بعض گروہوں کی جانب سے پاکستان سے جان بوجھ کر ممنوعہ اشیا لے جائی جاتی تھیں اور اس کے لیے حیران کن و شرم ناک طریقے اختیارکرنا معمول بنا لیا گیا تھا اور سعودیہ کی سخت سزاؤں کی بھی پروا نہیں کی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مزید سختیاں بڑھیں اور اب پہلے کی طرح اور جلد ویزہ کا اجرا نہیں ہو رہا۔
سعودی حکومت نے پولیو ویکسین کے سرٹیفکیٹ کی جو پابندی لگائی، اس کو بھی بعض ٹریول ایجنٹس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا جس میں محکمہ صحت کی ملی بھگت بھی شامل ہے اور عمرہ عازمین سے پیسے لے کر گھر بیٹھے یہ سرٹیفکیٹ بنائے جا رہے ہیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر یہ سرٹیفکیٹ طلب نہیں ہوتے، مگر جدہ ایئرپورٹ پر سعودی عملہ ہر آنے والے کو پولیو قطرے ضرور پلاتا ہے۔
بہت سے عازمین عمرہ ، جدہ سے مکہ عمرہ کر کے مدینہ سے واپسی چاہتے ہیں مگر ٹریول ایجنٹس یہ سہولت کم ہی دیتے ہیں اور گروپ کے علاوہ یہ سہولت مہنگی پڑتی ہے۔ ویزہ فیس میں اضافے اور رہائشی ہوٹلوں کی شدید قلت ہے، یوں ہوٹل والوں نے منہ مانگے نرخ وصول کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے عمرہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں صرف شیئرنگ عمرہ سستا رہ گیا ہے۔ ویزہ کھلنے کے بعد پاکستانیوں کی بڑی تعداد عمرے پر جا رہی ہے اور بعض پاکستانی وہاں جا کر بھی اپنے ہم وطنوں کو مختلف بہانوں سے لوٹ رہے ہیں۔
مکہ و مدینہ کے حرمین شریفین میں گھٹنوں اور ٹانگوں کی تکلیف کی وجہ سے بے ساکھیاں، وہیل چیئرز اور ہاتھوں میں آسانی سے لے جائی جانے والی کرسیاں اپنی ذاتی لے جاتے ہیں جب کہ دونوں جگہ وقف حرم کی گئی اشیا بھی موجود ہیں جو تعداد میں کم اور ضرورت مند زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی ٹانگوں و گھٹنوں کی تکلیف میں آسانی سے چل نہیں پاتے جنھیں جعل ساز پاکستانی شکار کر رہے ہیں۔
مدینہ میں ہجوم کم ہونے کے باعث نماز فجر کے بعد واپسی میں جعل ساز معذوری سے چلنے والے کے پاس آ کر بتاتا ہے کہ میرے والد کو یہی تکلیف تھی اگر آپ عجوہ کھجور کے پاؤڈر میں یہاں خالص ملنے والی یہ تین چیزیں ڈلوا کر استعمال کر لیں تو ایک ماہ میں دوڑنے لگیں گے مگر یہ اشیا مہنگی مگر بے حد فائدہ مند ہیں، اگر آپ کہیں تو میں اپنا ہم وطن سمجھ کر کسی پنسار اسٹور سے دلا دیتا ہوں۔ تکلیف سے تنگ شخص جس کے پاس دوائیں خریدنے کی رقم موجود نہیں ہوتی وجہ بتاتا ہے تو جعل ساز کہتا ہے کوئی بات نہیں میں دلوا دیتا ہوں، مجھے ہوٹل آ کر جو بل کی رقم بنے دے دینا۔ اس طرح جعل ساز گاہک پھانس کر قریبی پنساری پر لے جاتا ہے اور دوائیں لے کر عجوہ پاؤڈر میں ملا کر طریقہ استعمال بتاتا ہے اور خود کو پنسار اسٹور والے سے اجنبی بن کر مہنگی دوائیں دلا کر ضرورت مند کے ہوٹل جا کر وہ رقم وصول کر لیتا ہے جو اس نے پنساری کو دی تھی۔
پنسار اسٹور والے نے بل رکھے ہوتے ہیں جن پر علاقے کا نام اور فون نمبر تک نہیں لکھا ہوتا صرف حکیم لکھا ہوتا ہے جو بعد میں آسانی سے تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ حکیم نے ایک ضرورت مند سے تین دواؤں کی رقم ایک ہزار ریال وصول کی۔ اس جعل سازی میں ہمارے اپنے پاکستانی جعل ساز ملوث ہیں جو سادہ لوح گاہکوں کو پھانستے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں اور نیا شکار تلاش کر لیتے ہیں۔ اس جعل سازی میں پکڑے جانے کا امکان کم ہوتا ہے، وہ دوسرے گیٹ پر شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔
عمرے پر جانے والوں کی تربیت یا آگاہی فراہم کرنے کا ٹریول ایجنٹس صرف کتابچہ دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے عازمین کو خاصی مشکل پیش آتی ہے۔ ایک ٹریول ایجسنی والے نے مکہ و مدینہ کی زیارتوں کے لیے ایک عالم دین قاری رکھا ہے، باقی صرف داڑھی رکھ کر معلومات فراہم کرتے ہیں جو نماز کے لیے خود اندر نہیں جاتے اور اکثر کو تو سفر کی دعا بھی نہیں آتی۔ گروپ میں جانے والوں کو دعائیں اور معلومات کی فراہمی ضروری ہے جب کہ حج کی تربیت حکومت خود دیتی ہے تو حکومت کو ٹریول ایجنٹس پر عمرہ زائرین کی تربیت و معلومات کی رسائی کا پابند بنانا ضروری ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹریول ایجنٹس کی وجہ سے جاتے ہیں ہیں اور رہے ہیں ہے اور ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم