Express News:
2026-06-03@05:17:16 GMT

یہ پاکستانی زائرین

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

سعودی عرب، یو اے ای کو خاص طور پر پاکستانیوں سے متعدد شکایات ہیں جس کی وجہ سے وہاں پاکستان سے جانے والوں کو وہ عزت نہیں ملتی جو دوسروں کو ملتی ہے اور یہ شکایت پاکستانیوں کو بھی مگر کیوں ہے؟اس پر حکومت کی توجہ ہے نہ ہمیں فکر کہ انھی شکایتوں سے ملک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستانی اس سلسلے میں اپنے اعمال پر توجہ دینے کے بجائے کہتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کی اس طرف اس لیے توجہ نہیں کہ انھیں تو وہاں شان دار استقبال اور مہمان نوازی سے نوازا جاتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے حکمران ہیں اور وہاں پاکستان کی عزت بھی اب متاثر ہو رہی ہے جو وہاں ہمیشہ قرضوں اور مراعات و امداد کے لیے شاہانہ طور پر جاتے ہیں اور موجودہ وزیر اعظم اب تک سعودیہ کے 8 دورے کرچکے ہیں جب کہ سعودی حکمران سات آٹھ برس میں صرف ایک بار ہی پاکستان آئے اور موجودہ حکمران جن کے ان سے خصوصی تعلقات رہے ہیں کہ ساڑھے تین برس میں سعودی ولی عہد نے پاکستان کا کوئی دورہ نہیں کیا۔

مکہ و مدینہ ہر مسلمان کے لیے باعث تقدس مقامات ہیں جہاں دنیا بھر کے مسلمان حج و عمرے کے لیے جانا سعادت سمجھتے ہیں مگر وہاں جا کر خاص کر کچھ پاکستانی ایسے مذموم کام کر جاتے ہیں کہ جن سے پاکستان کی عزت پر حرف آتا ہے اور اسی لیے دبئی میں ہمارے داخلے پر پابندی اور ویزے کے حصول میں سختی بڑھ جاتی ہے۔

سعودیہ میں بھی اس بار عمرہ ویزوں پرکچھ عرصہ پابندی رہی اور عمرہ ویزے سخت پابندیوں میں اور تاخیر سے جاری ہو رہے ہیں۔ پہلے سعودیہ عمرے کے لیے تین ماہ کا ویزا جاری کرتا تھا، جس کی مدت اب ایک ماہ تک محدود کردی گئی ہے اور 28 دن کے خواہش مندوں کو ایک ماہ سے قبل ہی واپس آنا پڑتا ہے کیونکہ تین ماہ کے ویزوں کا غلط استعمال ہو رہا تھا۔ عمرہ کرکے وہاں روزگارکرنا، چھپ کر ملازمتیں کر لی جاتی تھیں اور بڑی تعداد میں وہاں بھکاریوں نے خیرات مانگنا اپنا مذموم دھندا بنا لیا تھا۔

بعض گروہوں کی جانب سے پاکستان سے جان بوجھ کر ممنوعہ اشیا لے جائی جاتی تھیں اور اس کے لیے حیران کن و شرم ناک طریقے اختیارکرنا معمول بنا لیا گیا تھا اور سعودیہ کی سخت سزاؤں کی بھی پروا نہیں کی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مزید سختیاں بڑھیں اور اب پہلے کی طرح اور جلد ویزہ کا اجرا نہیں ہو رہا۔

سعودی حکومت نے پولیو ویکسین کے سرٹیفکیٹ کی جو پابندی لگائی، اس کو بھی بعض ٹریول ایجنٹس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا جس میں محکمہ صحت کی ملی بھگت بھی شامل ہے اور عمرہ عازمین سے پیسے لے کر گھر بیٹھے یہ سرٹیفکیٹ بنائے جا رہے ہیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر یہ سرٹیفکیٹ طلب نہیں ہوتے، مگر جدہ ایئرپورٹ پر سعودی عملہ ہر آنے والے کو پولیو قطرے ضرور پلاتا ہے۔

بہت سے عازمین عمرہ ، جدہ سے مکہ عمرہ کر کے مدینہ سے واپسی چاہتے ہیں مگر ٹریول ایجنٹس یہ سہولت کم ہی دیتے ہیں اور گروپ کے علاوہ یہ سہولت مہنگی پڑتی ہے۔ ویزہ فیس میں اضافے اور رہائشی ہوٹلوں کی شدید قلت ہے، یوں ہوٹل والوں نے منہ مانگے نرخ وصول کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے عمرہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں صرف شیئرنگ عمرہ سستا رہ گیا ہے۔ ویزہ کھلنے کے بعد پاکستانیوں کی بڑی تعداد عمرے پر جا رہی ہے اور بعض پاکستانی وہاں جا کر بھی اپنے ہم وطنوں کو مختلف بہانوں سے لوٹ رہے ہیں۔

مکہ و مدینہ کے حرمین شریفین میں گھٹنوں اور ٹانگوں کی تکلیف کی وجہ سے بے ساکھیاں، وہیل چیئرز اور ہاتھوں میں آسانی سے لے جائی جانے والی کرسیاں اپنی ذاتی لے جاتے ہیں جب کہ دونوں جگہ وقف حرم کی گئی اشیا بھی موجود ہیں جو تعداد میں کم اور ضرورت مند زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی ٹانگوں و گھٹنوں کی تکلیف میں آسانی سے چل نہیں پاتے جنھیں جعل ساز پاکستانی شکار کر رہے ہیں۔

مدینہ میں ہجوم کم ہونے کے باعث نماز فجر کے بعد واپسی میں جعل ساز معذوری سے چلنے والے کے پاس آ کر بتاتا ہے کہ میرے والد کو یہی تکلیف تھی اگر آپ عجوہ کھجور کے پاؤڈر میں یہاں خالص ملنے والی یہ تین چیزیں ڈلوا کر استعمال کر لیں تو ایک ماہ میں دوڑنے لگیں گے مگر یہ اشیا مہنگی مگر بے حد فائدہ مند ہیں، اگر آپ کہیں تو میں اپنا ہم وطن سمجھ کر کسی پنسار اسٹور سے دلا دیتا ہوں۔ تکلیف سے تنگ شخص جس کے پاس دوائیں خریدنے کی رقم موجود نہیں ہوتی وجہ بتاتا ہے تو جعل ساز کہتا ہے کوئی بات نہیں میں دلوا دیتا ہوں، مجھے ہوٹل آ کر جو بل کی رقم بنے دے دینا۔ اس طرح جعل ساز گاہک پھانس کر قریبی پنساری پر لے جاتا ہے اور دوائیں لے کر عجوہ پاؤڈر میں ملا کر طریقہ استعمال بتاتا ہے اور خود کو پنسار اسٹور والے سے اجنبی بن کر مہنگی دوائیں دلا کر ضرورت مند کے ہوٹل جا کر وہ رقم وصول کر لیتا ہے جو اس نے پنساری کو دی تھی۔

پنسار اسٹور والے نے بل رکھے ہوتے ہیں جن پر علاقے کا نام اور فون نمبر تک نہیں لکھا ہوتا صرف حکیم لکھا ہوتا ہے جو بعد میں آسانی سے تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ حکیم نے ایک ضرورت مند سے تین دواؤں کی رقم ایک ہزار ریال وصول کی۔ اس جعل سازی میں ہمارے اپنے پاکستانی جعل ساز ملوث ہیں جو سادہ لوح گاہکوں کو پھانستے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں اور نیا شکار تلاش کر لیتے ہیں۔ اس جعل سازی میں پکڑے جانے کا امکان کم ہوتا ہے، وہ دوسرے گیٹ پر شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔

عمرے پر جانے والوں کی تربیت یا آگاہی فراہم کرنے کا ٹریول ایجنٹس صرف کتابچہ دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے عازمین کو خاصی مشکل پیش آتی ہے۔ ایک ٹریول ایجسنی والے نے مکہ و مدینہ کی زیارتوں کے لیے ایک عالم دین قاری رکھا ہے، باقی صرف داڑھی رکھ کر معلومات فراہم کرتے ہیں جو نماز کے لیے خود اندر نہیں جاتے اور اکثر کو تو سفر کی دعا بھی نہیں آتی۔ گروپ میں جانے والوں کو دعائیں اور معلومات کی فراہمی ضروری ہے جب کہ حج کی تربیت حکومت خود دیتی ہے تو حکومت کو ٹریول ایجنٹس پر عمرہ زائرین کی تربیت و معلومات کی رسائی کا پابند بنانا ضروری ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹریول ایجنٹس کی وجہ سے جاتے ہیں ہیں اور رہے ہیں ہے اور ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار