Jasarat News:
2026-07-24@05:03:11 GMT

…اور نوٹیفکیشن جاری ہوگیا

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251206-03-2
حکومت نے جس طرح جلد بازی میں آئین میں 27 ویں ترمیم مجلس شوریٰ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروائی تھی، اسی سرعت سے اس پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا تھا۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کو عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ لاہور میں چیلنج کر دیا گیا تھا اور ستائیسویں ہی نہیں 26 ویں ترمیم کے خلاف بھی درخواستوں کی سماعت اعلیٰ عدالتوں میں جاری ہے جہاں سے ان کے حق میں یا خلاف کسی بھی فیصلہ کی توقع کی جا سکتی ہے دوسری جانب عدالت عظمیٰ کے دو، عدالت عالیہ لاہور کے ایک اور ماتحت عدلیہ کے بھی بعض ججوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی پر شب خون قرار دیتے ہوئے بطور احتجاج اپنے مناصب سے استعفے دے دیے اور نئے نظام کے تحت کام کرنے پر گھر بیٹھنے کو ترجیح دی۔ تیسری جانب آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ان دونوں ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف ہر جمعرات کو ہفتہ وار ہڑتال اور احتجاجی ریلیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ چوتھی جانب حزب اختلاف کے اتحاد ’’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘‘ نے جمعہ 21 نومبر کو 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ’یوم سیاہ‘ منایا اور اس سے قبل پارلیمنٹ ہائوس کے باہر تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے تحریک کے چیئرمین محمود خاں اچکزئی، سینیٹر علامہ ناصر عباس، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر رہنمائوں کی قیادت میں قومی اسمبلی کی عمارت سے عدالت عظمیٰ کی عمارت تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر آمریت مردہ باد ’’جمہوریت زندہ باد‘‘ اور 27 ترمیم نا منظور کے نعرے درج تھے۔ اسی طرح بعض دیگر حلقوں کی طرف سے بھی آئینی ترامیم کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا مگر حکومت نے اس میں سے کسی بھی احتجاج یا قانونی چارہ جوئی کی پروا کیے بغیر ترمیم کی منظوری کے فوری بعد اس کی روشنی میں تیز رفتاری سے عملی اقدامات شروع کر دیے سب سے پہلے عدالت عظمیٰ کے متوازی بلکہ بعض ماہرین آئین و قانون کی رائے میں عدالت عظمیٰ سے بالاتر ایک نئی ’’آئینی عدالت‘‘ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تشکیل دے دی گئی جس نے ایسے اپنے کام کا باقاعدگی سے آغاز کر دیا ہے۔ پھر 27 ویں ترمیم کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی بھی از سر نو تشکیل کر دی گئی۔ عدلیہ کے بعد دفاعی اداروں کے حوالے سے اقدامات اور اصلاحات کی باری تھی۔ قیام پاکستان کے بعد بہت سے دیگر شعبوں کی طرح پاک فوج کا نظام بھی برطانیہ کی چھوڑی ہوئی روایات اور طریق کار کے مطابق کام کرتا رہا۔ 1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے باقی ماندہ پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو افواج پاکستان کی کمان میں بعض تبدیلیاں کیں۔ چنانچہ 1972ء میں پاکستان کی مسلح افواج میں چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ متعارف کرایا گیا اس عہدے پر بری، بحری یا فضائی کسی بھی فوج کا چار ستارہ جرنیل کے منصب کا افسر تعینات کیا جا سکتا تھا۔ مسلح افواج سے کمانڈر انچیف کا عہدہ بھی ذوالفقار علی بھٹو نے ختم کر دیا اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف نیول اسٹاف اور چیف آف ائر اسٹاف کے عہدے بنائے گئے۔ تب سے اب تک یہی نظام رائج چلا آ رہا تھا تاہم مئی 2025ء کی جنگ کے تجربہ کے بعد اس نظام میں بعض تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی گئی جو آئین میں 27 ویں ترمیم کے ذریعے عمل میں لائی گئیں اب نئی صورت حال میں نومبر کے آخری ہفتہ میں جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی فوج کا یہ عہدہ بھی ختم ہو گیا ہے اور اب 27 ویں ترمیم کے ذریعے اس کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا ہے جو بری، بحری اور فضائی افواج اور پیرا ملٹری فورسز سب کے سربراہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ افواج پاکستان کی تنظیم نو کی جا رہی ہے جس کے بعد مزید فورسز بھی تشکیل دی جائیں گی۔ ایک نئی راکٹ فورس بنائی جا رہی ہے، جنگی حکمت عملی کی ترتیب اور غور و غوض کے لیے اسٹرٹیجک فورس معرض وجود میں لائی جا رہی ہے جب کہ الگ سے ایک نیشنل اسٹرٹیجک کمان کی تشکیل بھی پیش نظر ہے۔ یہ سب مستقل طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان میں کام کریں گی یوں ملک کے دفاعی اداروں کے مابین مضبوط ربط و تعاون کا باقاعدہ نظم جنم لے گا، اور ملکی دفاع کو زیادہ بہتر حکمت عملی کے تحت منظم کیا جا سکے گا۔

اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جنرل ساحر شمشاد کی مدت ملازمت پوری ہونے اور جائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ ختم ہونے سے پہلے یا کم از کم اس کے ساتھ ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہو جاتا مگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر یہ نوٹیفکیشن اس وقت جاری نہیں کیا گیا اور اس کے اجراء میں کم و بیش ایک ہفتے کی تاخیر ہوئی جس کے باعث ملک میں افواہوں کا بازار گرم رہا اور سازشوں کی تھیوریاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔ حکومتی وزراء رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ وغیرہ اس تاخیر کا سبب وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ملک میں عدم موجودگی بتاتے رہے تاہم صاحبان فکر و دانش اسے تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے اور تجزیہ و تبصرہ نگار اپنی جانب سے طرح طرح کی حاشیہ آرائیاں کرتے دکھائی دیے خصوصاً سماجی ذرائع ابلاغ پر تو ایسی ایسی داستانیں سنائی گئیں کہ خدا کی پناہ… اس کیفیت نے ملک میں عجب طرح کے اضطراب اور کشمکش کو جنم دیا اور بہت سے لوگ تو اس کے نتیجے میں ’انقلاب‘ کے خواب بھی دیکھنے لگے تھے۔ بہرحال چار دسمبر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پانچ سال کے لیے آرمی چیف اور ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کی سمری صدر مملکت آصف علی زرداری کو ارسال کی گئی، صدر نے کسی تاخیر کے بغیر اسی شام اس پر دستخط کر دیے اس سمری کے ساتھ ہی پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں دو برس کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی ہے جو 19 مارچ 2026ء سے ان کی موجودہ مدت ملازمت کی تکمیل کے بعد شروع ہو گی یوں پاک فضائیہ کے موجودہ سربراہ 2028ء تک اپنے اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس سمری پر وزیر اعظم اور صدر مملکت کے دستخطوں کے نتیجے میں بہت سے مضطرب الحال دلوں کی بے قراری کو آخر قرار نصیب ہو گیا ہے اور بے شمار افواہیں اور سازشی تھوریاں دم توڑ گئی ہیں۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیف ا ف ڈیفنس فورسز ویں ترمیم کے عدالت عظمی کے خلاف کر دیا کے بعد

پڑھیں:

 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن