Jasarat News:
2026-07-24@09:01:51 GMT

پاکستان سے ذہنی سرمائے کا انخلا

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251206-03-3
کائنات کے کامل انسان سیدنا محمد مصطفی احمد مجتبیٰؐ نے فرمایا ہے: ’’حبّ الوطن من الایمان‘‘۔ یعنی وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اور ہم تو اسلامی جمہوریہ پاکستان سے محبت کے دعوے ببانگ دہل کرتے نہیں تھکتے تو پھر کیوں ہم خود اور اپنے بچوں کی بچپن ہی سے برین واش کردیتے ہیں کہ بیٹا یہاں پاکستان میں کچھ نہیں رکھا، جیسے تیسے کرکے پہلی فرصت میں اس مملکت خداد سے بھاگو، اگر وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے تو اسے چھوڑ کر بھاگ جانا کس صف میں لکھا جائے گا؟ پاکستان کسی سیاسی حادثے کا نام نہیں۔ یہ ایک نعمت، ایک امانت اور ایک مقدر ہے۔ 14 اگست 1947 کو لاکھوں جانوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی اس ریاست کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں جب اللہ نے اپنی رحمتوں کے دروازے بند کیے ہوں۔ پاکستان وہ سرزمین ہے جہاں آزادانہ عبادت، اذانوں کی گونج، اسلامی تہوار، قرآن کے مدارس، دین کی نشر و اشاعت سب کچھ کھلے عام ہوتا ہے۔ ایسے ماحول کا فقدان مغربی دنیا میں عام ہے مگر ہم اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

خیرالبشر نبی مکرمؐ نے مکہ سے ہجرت کی، مگر اس سے قبل ایک عظیم جملہ ارشاد فرمایا: ’’اے مکہ! تم مجھے بہت عزیز ہو، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں کبھی تمہیں نہ چھوڑتا‘‘۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ اپنی سرزمین چھوڑنا پسندیدہ نہیں سوائے مجبوری کے۔ اور ہمارے نوجوان مجبوری سے نہیں، بلکہ مایوسی یا کم اعتمادی کے ہاتھوں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف غیر عملی ہے بلکہ اسلامی روح کے خلاف بھی ہے۔

پاکستان کسی سیاسی حادثے کا نام نہیں۔ یہ ایک نعمت، ایک امانت اور ایک مقدر ہے۔ یہ دنیا کے چند ممالک میں سے ایک ہے۔ جس کے پاس وسیع زرخیز زمین ہے، چار موسم ہیں، دنیا کی بڑی نوجوان آبادی ہے، قدرتی وسائل کی بھرمار ہے۔ جغرافیائی اہمیت بے مثال ہے۔ ایک مضبوط خاندانی نظام ہے یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے لیے کئی ملک ترستے ہیں۔ قرآن پاک میں حضرت حق نے لکھ دیا ہے: ’’اپنے ربّ کی نعمتوں کا چرچا کرو‘‘۔ (الضحیٰ 11)

ہمیں پاکستان کی نعمت کو پہچان کر اس کا چرچا کرنا چاہیے نہ کہ وطن سے بیزاری کا اظہار۔ اپنا گھر چھوڑ کر دوسروں کے لیے مزدور بننا ترقی نہیں ہوتا؛ ترقی وہ ہے جو اپنے گھر، اپنی مٹی، اور اپنی قوم کو سمیٹ کر آگے بڑھائے۔ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں؛ یہ روحانی امانت ہے۔ اس کے قیام کے پیچھے لاکھوں شہیدوں کی قربانیاں، ماں باپ کی دعائیں، اور اللہ کی مشیت کا دریا بہتا ہے۔ پاکستان اللہ کی عطا کی گئی امانت۔ قرآن کہتا ہے: ہم نے تمہیں زمین میں نائب بنا دیا۔ پاکستان ہم پر اللہ کی دی ہوئی ایک نیابت ہے۔ یہاں پیدا ہونا، یہاں پلنا، یہاں تعلیم حاصل کرنا یہ سب محض اتفاق نہیں؛ یہ تقسیم ِ رزق کا حصہ ہے، تقدیر کا فیصلہ ہے۔ روحانی بزرگ کہتے ہیں کہ انسان کی روح ہمیشہ اس جگہ سے تعلق رکھتی ہے جہاں اس کی ذمے داری لکھی گئی ہو۔ پاکستان ہمارا مقدر ہے، اور مقدر کو چھوڑ کر بھاگا نہیں جاتا؛ اسے نبھایا جاتا ہے۔

اسلام میں ہجرت تب عظیم ہے جب دین کی حفاظت کے لیے کی جائے۔ لیکن معاشی خواہش، مغربی چکاچوند، یا دنیاوی خواہشوں سے بندھا ہے۔ اگر کوئی نوجوان صرف اس لیے وطن چھوڑ دے کہ یہاں مشکلات ہیں، تو اسے سیرتِ نبوی پڑھنی چاہیے۔ مدینہ کی ریاست ایک دن میں نہیں بنی تھی۔ مشکلات تھیں مگر جذبہ تھا۔ آج پاکستان کو بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے، نہ کہ ’’فرار‘‘ کی۔ پاکستانی نوجوان سمجھتے ہیں کہ باہر جا کر زندگی آسان ہو جاتی ہے، مگر زمینی حقائق کچھ اور کہتے ہیں: بھاری ٹیکس، نسل پرستی، کرائے کی مہنگائی۔ 10، 12 گھنٹے کی جاب۔ تنہائی۔ خاندانی زندگی کا بکھر جانا۔ باہر رہنے والوں کی اکثریت یہی کہتی ہے: ’’پاکستان میں زندگی مشکل ہے، مگر باہر زندگی تنہا ہے‘‘۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں آپ اپنی زبان بولتے ہیں، اپنی تہذیب میں جیتے ہیں، اور گھر کے بزرگوں اور بچوں کے ساتھ پْرسکون زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوان صرف اس لیے وطن چھوڑ دے کہ یہاں مشکلات ہیں، تو اسے یہی مشورہ ہے کہ اسے سیرتِ نبوی پڑھنی چاہیے۔

صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ انسان کی روح ہمیشہ اس جگہ سے جڑی ہوتی ہے جہاں اس کی ذمے داری لکھی گئی ہو۔ پاکستان ہمارا مقدر ہے، اور مقدر کو چھوڑ کر بھاگا نہیں جاتا؛ اسے نبھایا جاتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وطن میں رہ کر علم، ہنر اور خدمات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ پاکستان خدا کی عطا کردہ نعمت ہے، اور نوجوان قوم کی ترقی کی بنیاد ہیں۔ وطن چھوڑ کر مغربی آسائشوں کی تلاش کوئی حل نہیں، بلکہ روحانی، معاشرتی اور عملی نقصان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ پاکستان کی نعمتوں کو پہچانیں، یہاں کے وسائل اور مواقع سے فائدہ اٹھائیں نوجوانوں کی تعلیم اور ہنر کو ملک میں استعمال کریں مشکلات کے باوجود وطن میں ترقی کی راہیں تلاش کریں۔

امیر محمد خان کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے جہاں ا چھوڑ کر مقدر ہے ہیں کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا