ڈاکو زندہ جلانے پرپولیس کوصحیح رسپانس کرنا چاہیے تھے‘آئی جی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن کا کہناہے کہ اورنگی میں مبینہ ڈاکو کو زندہ جلانے کے معاملے پر پولیس کو صحیح رسپانس کرنا چاہیے تھے۔سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں عدالتوں کی سیکورٹی کے حوالے سے میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہناتھا کہ عدالتوں کی سیکورٹی کے حوالے سے میٹنگ بلائی تھی ،عدالتوں کی سیکورٹی کے حوالے سے ایسی میٹنگ تواتر سے ہوتی رہتی ہیں ، کوشش ہے کہ افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ حل کیا جاسکا، ٹیکنالوجی کی بنیاد پر سیکورٹی کا نظام بنایا جائے گا، کراچی میں بھتہ خوری کے بہت کیسز رپورٹ ہوتے تھے، بھتہ خوری سے نمٹنے کے لئے سی آئی اے کا یونٹ بنایا گیا تھا، سی آئی اے کی کارروائیوں سے بھتہ خوری کے کیسز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، کراچی بہت بڑا شہر ہے، ایک شکایت بھی بہت زیادہ ہائی لائٹ ہوتی ہے، بھتہ خوری کے واقعات ہوتے ہیں لیکن پولیس بھی فوری کارروائی کرتی ہے، متعدد بھتہ خور مقابلوں میں مارے گئے یا پکڑے گئے، بھتا خوری کے واقعات میں پولیس کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے، مسئلہ وہاں ہوتا ہے جب اطلاع نہیں دی جاتی، واقعہ ہونے کے بعد شکایت پولیس کے علم میں لائی جاتی ہے، رواں برس 140 کے قریب بھتہ خوری کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، آدھے سے زیادہ کیسز بھتے کے نہیں بلکہ آپسی لین دین کے تھے جسکو بھتہ خوری بنایا گیا، پولیس پوری کوشش کرتی ہے کہ فوری طور پر رسپانس دیا جائے، پولیس بھتہ خوری کے واقعات میں ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خوری کے واقعات بھتہ خوری کے
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔