محرابپور،بینک سیکورٹی گارڈ ایجنٹ بن گیا ،درجنوں چیک پاس کراتے ہوئے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-11-8
محراب پور(جسارت نیوز)محراب پور سندھ بینک پر سیکورٹی کیلئے تعینات مجاہد نامی گارڈ ایجنٹ بن گیا، درجنوں چیک پاس کراتے ہوئے پکڑا گیا، کوریج پر صحافی مشتاق ملک کو حملہ کرکے زخمی کردیا، آج سندھ بینک محراب پور میں برسات متاثرین کو امدادی رقم میں کٹوتی کی عوامی شکایت پر کوریج کیلئے پہنچنے والے سینئر صحافی مشتاق ملک کو گارڈ مجاہدنے بینک عملے کیساتھ ملکر حملہ کرکے زخمی کردیا جسے اسپتال منتقل کر دیا ہے، صحافی پر تشدد کیخلاف محراب پور صحافی اتحادکے زیر اہتمام منور احمد ملک، شہزاد مغل کی قیادت میں احتجاج ہوا، اس موقع پر صحافیوں کا کہنا تھا کہ سندھ بینک محراب پور کی سرپرستی میںایجنٹ مافیا کا راج ہے، پیسے دینے والوں کے چیک پاس ہوتے ہیں، بینک عملے کیساتھ ملکر سیکورٹی کیلئے مامور گارڈ مجاہد 2 سے 3 ہزار روپے لیکر لوگوں کے چیک پاس کراتا ہے درجنوں چیک پاس کراتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور کوریج پر مشتاق ملک کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کردیا جس پر صحافی برادری سراپا احتجاج ہے اوراسٹیٹ بینک، سندھ بینک انتظامیہ اور پرائیوٹ سیکورٹی ایجنسی سے گارڈ مجاہد اور سندھ بینک عملے کیخلاف کارروائی کا مطالبہ ہے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، پولیس کے مطابق صحافی کی رپورٹ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔