حب ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد ،عوام کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-11-13
حب( نمائندہ جسارت)حب شہر میں بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو کے تحت ڈپٹی کمشنر حب اسماعیل ابراہیم کے زیر صدارت کھلی کچہری کا انعقاد ہوا حب شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی متعدد ترقیاتی تجاویز پیش کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت بلوچستان کی ہدایت پر بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو کے تحت ضلع حب میں سوک سینٹر حب میں آج ایک اہم کھلی کچہری منعقد کی گئی جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر حب اسماعیل ابراہیم بلوچ نے کی کھلی کچہری میں ایس ایس پی حب سید فاضل بخاری ، میجر ایف سی عالم ، اسسٹنٹ کمشنر حب مہیم خان گچکی ، اسسٹنٹ کمشنر وندر رضوان میمن ، ڈسٹرکٹ چیئرمین جاوید جمالی ، چیرمین میونسپل کمیٹی گڈانی جان شیر بلوچ سمیت ضلعی محکموں کے تمام سربراہان موجود تھے جنہوں نے عوامی مسائل، تجاویز اور ترقیاتی درخواستوں کا براہِ راست جائزہ لیا ضلع حب بھر سے آئے ہوئے شہریوں نے سڑکوں کی مرمت صاف پانی کی فراہمی، صفائی کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، تعلیمی و طبی سہولیات میں اضافے سمیت متعدد چھوٹے پیمانے کے عوامی مفاد کے منصوبے پیش کیے گئے بیشتر شہریوں نے اپنی تجاویز تحریری صورت میں اپنے ہمراہ لائے جنہیں ضلعی انتظامیہ نے جمع کرکے متعلقہ محکموں کو ابتدائی جانچ کے لیے ارسال کیا۔ڈپٹی کمشنر حب اسماعیل ابراہیم بلوچ نے کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹیو کا مقصد عوامی شمولیت کے ساتھ ایسے منصوبے ترتیب دینا ہے جو براہِ راست شہریوں کی ضروریات پوری کرسکیں۔ انہوں نے عوام کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موصول ہونے والی تجاویز پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ کھلی کچہری سوک سینٹر حب لان حب میں منعقد ہوئی جہاں پر شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی حب عوام کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے بنیادی سطح کے مسائل اجاگر ہوتے ہیں اور انتظامیہ کو مقامی ضروریات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر کھلی کچہری
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔