کمشنر حیدرآباد جناب فیاض عباسی نے آج بھنبھور کے مشہور آثار کا دورہ کیا جو دیبل کی قدیم بندرگاہ کے حوالے سے بھی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔

سندھ کا یہ اہم تاریخی مقام پاک اطالوی مشن کی جانب سے دوبارہ زیرِ مطالعہ ہے جہاں سال 2011 سے کھدائی جاری ہے۔ واضح رہے کہ باضابطہ طور پر بھنبھور کی سائٹ پر 1958 میں کام کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر ایف اے خان نے کلیدی کردار ادا کیا۔

پھر پاکستانی، فرانسیسی اور اطالوی ماہرین نے 2011 تا 2015 یہاں کھدائی کی۔ پھر 2017 میں پاکستانی اور اطالوی ماہرین نے دوبارہ دریافتوں کے لیے سائٹ پر کھدائی شروع کی جس میں پاکستان کی جانب سے نگرانی، زاہدہ قادری اور اطالوی مشن کی نگراں ڈاکٹر آنیئیسے فیوسارو ہیں۔

کمشنر حیدرآباد نے کو سائٹ کے علاوہ بھنبھور میوزیم کا دورہ بھی کیا۔ فیلڈ ڈائریکٹر ایکس کیویشن، زاہدہ قادری نے کمشنر حیدرآباد کو نئی دریافتوں سے آگاہ کیا۔ نئی حالیہ دریافتوں میں رومن طرز کا غسل خانہ (رومن باتھ) بھی شامل ہے جو اوائل اسلامی عہد سے تعلق رکھتا ہے اور یہ 2024 میں دریافت کیا گیا تھا۔ اسی سال یہاں سے وابستہ ایک کنواں دریافت ہوا جو قدرے نیچے کی جانب واقع ہے۔

زاہدہ قادری نے فیاض عباسی کو مزید بتایا کہ گزشتہ برس برتنوں اور ظروف کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں جن پر عربی اور اور فارسی الفاظ کندہ ہیں۔ ایک ٹکڑے پر دو تاجروں کے درمیان پیغامات لکھے گئے ہیں۔ ڈاکٹر آنیئیسے نے کمشنرحیدرآباد کو اس مقام پر ہاتھی دانت کی پیداوار اور تیاری سے آگاہ کیا جو اس اہم جگہ کی اہمیت بڑھاتے ہیں۔

انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ بھنبھور کے اہم تاریخی آثار کے قریب ہی جھینگوں کے فارم ہے جس سے یہاں کے ماحول اور اسٹرکچر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس اہم دورے میں حیدرآباد کے کمشنر کے علاوہ ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرہ، ڈی سی ٹھٹھہ، غلام دستگیر شیخ، اے ڈی ون ٹھٹھہ، فہیم شاکر، اے سی ٹھٹھہ فراز احمد عباسی کے علاوہ میرپور ساکرو، گھارو اور کیٹی بندر کے اے سی بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق