مٹیاری،ایس ایس پی کی زیر صدارت جرائم کی روک تھام کیلئے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-11-14
مٹیاری(نمائندہ جسارت)ایس ایس پی مٹیاری محمد عارف اسلم راؤ کی زیر صدارت ضلع بھر میں امن و امان اور جرائم کی روک تھام کے حوالے سے اہم کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس میں آفس سپرنٹنڈنٹ، ایس ڈی پی اوز، ڈی ایس پی لیگل، ڈی ایس پی ہیدکواٹر، ڈی ایس پیز یوٹی، انچارچ سی آئی اے، آر آئی مٹیاری، ایس ایچ اوز اور ہیڈ آف برانچز نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع بھر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، کرائم کنٹرول، پولیس کارکردگی اور جاری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایس ایس پی مٹیاری نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دھاریجو کے احکامات کی روشنی میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں کرائم کنٹرول، لسٹڈ عادی و اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا جائے۔انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ سنگین مقدمات میں ملوث اشتہاری، روپوش اور مطلوب ملزمان کے خلاف بلا تاخیر اور مؤثر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔مزید برآں انہوں نے اسپیشل برانچ کی جانب سے مرتب کردہ منشیات فروشوں کی کیٹیگری وائز فہرستوں (A+, A, B, C) کی روشنی میں مربوط حکمت عملی کے تحت ضلعی سطح پر کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز سخت اقدامات کیے جائیں گے۔پولیس پیٹرولنگ اور پولیس پکٹنگ کو مزید مؤثر بنائیں اور دورانے ڈیوٹی تمام اسٹاف کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری۔ایس ایس پی مٹیاری نے مزید ہدایت دی کہ تمام تھانوں اور پولیس دفاتر میں صفائی، نظم و ضبط اور ڈسپلن کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تھانوں میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آ کر ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔اجلاس میں سیف سٹی پروجیکٹ پر عملدرآمد سے متعلق اہم ہدایات بھی جاری کی گئیں، جبکہ نیشنل ہائی وے اور شہروں کے داخلی خارجی رستوں پر سیکورٹی کے مؤثر انتظام کے لیے CCTV کیمروں کی تنصیب کے احکامات بھی دیے گئے۔آخر میں ایس ایس پی مٹیاری نے کہا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران و اہلکاروں کو تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جائے گا، جبکہ غفلت یا ناقص کارکردگی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسی سلسلے میں اچھی کارکردگی پر مندرجہ ذیل افسران و اہلکاروں کو CC-III بمع کیش ایوارڈ دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی مٹیاری کے خلاف
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں