data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-03-6
میں: تم نے گزشتہ نشست میں اقبال کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بندگی کی غرض جنت کے انعام اور دوزخ کے عذاب کے ڈر سے ماورا ہونی چاہیے۔ لیکن یہ یقین دہانی تو خود اللہ نے اپنے رسولؐ کے ذریعے کرائی ہے کہ جس نے ایمان لانے کے بعد دنیا میں نیک عمل کیے اسے انعام میں جنت عطا کی جائے گی اور وہ دوزخ سے بچا لیا جائے گا۔ اور مجھے اس بات پورا یقین ہے کہ میں جو بھی نیک عمل کروں گا، تو انعام میں خدا مجھے وہ سب کچھ دے گا جس کا اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔
وہ: لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمہیں یہ یقین کیوں ہے؟
میں: اس لیے کہ اللہ اس ساری کائنات کا خالق ہے، ہمارا پروردگار ہے، پالن ہار ہے، اسی نے مجھے پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز اس کے حکم کی تابع وپابند ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
ہے سزاوار کبریائی کا
وہی مالک ہے کل خدائی کا
اور دوسرے یہ کہ میں خدا اور اس کی بنائی ہوئی ہر شہ کے آگے عاجز ہوں اسی لیے اس کائنات کی تمام چیزوں کی طرح بحیثیت انسان میں بھی اس کا حکم ماننے کا پابند ہوں۔
اور سب سے اہم چیز جو مجھے ہر دم بندگی کی روش پر قائم رکھتی ہے کہ نہ مجھے اپنی زندگی پرکوئی اختیار ہے نہ موت پر۔ یعنی جب خود اپنی تخلیق میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے تو مجھے اپنے وجود پر اختیار کیسے ہوسکتا ہے؟ …
وہ: مگر اس تمام بے اختیاری کے باوجود تمہیں اس زندگی میں اپنے عمل پر پورا اختیار ہے اور اس اختیار کی جواب دہی کے بعد آخرت میں جزا وسزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہی وہ غرض ہے جو خدا کے مقام و مرتبے اور اس دنیا میں بندے کی حیثیت کی بنیاد پر اسے نیک عمل پر آمادہ اور برائی سے باز رکھتی ہے۔
میں: لیکن وہ ابتدائی سوال ابھی بھی جواب طلب ہے کہ کسی غرض کے بغیر بندگی کے لیے انسان کی آمادگی کیوں کر ممکن ہے؟
وہ: اصل میں بندگی مکمل سپردگی یعنی Complete Surrender اور سراپا عقیدت کا نام ہے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب بندے کو اس کائنات اور اس کے بنانے والے کی مقتدرت، خلاقیت، اور کاریگری کا مکمل ادراک ہوگا۔ بقول اسمٰعیل میرٹھی ؔ
ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی
یہ کارخانہ تونے کب رائیگاں بنایا
اور مشکل یہ ہے کہ آج کے انسان کے پاس اس خلاقی اور کاریگری کو دیکھنے، سمجھنے، غورو فکر کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ وہ اقبال نے کہا ہے نا
حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے
میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ انسان صرف اس کائنات میں موجود اشیاء و عناصر، چرند پرند، ہوا، اشجار، دریا، پہاڑ، آسمان اور بادل اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ فقط ان کو ہی اپنے مشاہدے میں لا کر عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کرے تو شاید اس کے سامنے خدا کی بنائی ہوئی کائنات میں موجود کیمیا گری اور حکمت کا کوئی راز افشا ہوجائے۔ پھر وہ اس تخلیق کے سامنے خود کو عاجز سمجھتے ہوئے بندگی کا فریضہ بجالائے؟
وہ: لیکن ذرا تم ہی بتائو تمہاری اور میری زندگیوں میں یہ مرحلہ ٔ حیرانی کتنی بار آیا ہے؟
میں: شاید ایک بار بھی نہیں بقول میرؔ
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
مگر تمہاری اس بات سے میرے ذہن میں ایک اور بات آرہی ہے، کیا اس کی وجہ وہ نظام ِفکر اور طریقۂ علم ہے جو بہت کچھ پڑھنے اور سیکھ جانے کے بعد بھی مجھے حیران نہیں کررہا ہے، میری نیندیں نہیں اڑا رہا، مجھے بے کل نہیں کررہا، میری کسی ایسے لمحہ ٔ فکر کی طرف رہنمائی نہیں کررہا جہاں سے میں اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کی جستجو خود سے کرسکوں۔
وہ: تمہاری بات درست ہے کیوںکہ آج کا ہر شعبۂ علم فرد میں صرف ڈگری کے حصول کی جوت جگاتا ہے اور اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا اس کی آخری منزل قرار پاتا ہے۔ یعنی آج کی درس گاہیں ایک جیسی اُن مختلف فیکٹریوں کی طرح ہیں جہاں سے انسان کی شکل میں لاتعداد مشینیں ہرسال ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں بن کرنکل رہی ہیں جو سوچنے سمجھنے سے عاری، خود کو خدا کا بندہ سمجھنے اور ماننے سے انکاری اور اپنے مقصد ِ وجود کو جاننے سے قاصر ہیں۔ بقول اقبالؔ
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہوکہ انسان کو اپنے علم اور شعور کے ذریعے خدا کی قدرت اور اپنی کم مائیگی کا ادراک رکھتے ہوئے کسی غرض اور لالچ کے بغیر بندگی کا فرض ادا کرنا چاہیے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان غرض کا بندہ ہے اور خدا نے اسی سرشت پر اسے تخلیق کیا ہے۔ اسی لیے نفس کو مرغوب اشیا کے ذریعے اسے نیک عمل کی ترغیب دلائی اور آگ میں جلنے اور سزا کا خوف دلا کر برائی سے رکنے کا درس دیا۔ تو پھر اگر میں انعام کی لالچ اور آگ کی لپٹ سے بچنے کے لیے ربّ کی بندگی کررہا ہوں تو اس میں حر َج کیا ہے؟ جبکہ آج کے انسان کا حال تو یہ ہے کہ وہ کسی غرض کے لیے بھی بندگی کا روادار نہیں ہے اور تم بے غرض بندگی کی بات کررہے ہو۔
وہ: میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی حر َج ہے یا ایسا کرنا کسی ضرر کا باعث ہے، بندگی کے انعام میں جنت میں گھر تو سراسر منافع کا سودا ہے۔ اور رہی بات آج کے انسان کی تو وہ تو خود کو خدا کا بندہ ہی ماننے سے انکاری ہے توکیا غرض اور کیا بے غرض بندگی۔ اگر غور کرو تو یہ fan following کا دور ہے۔ آج کا انسان خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی بنائی ہوئی سوشل میڈیا کی دنیا میں رہ رہا ہے اور وہ اس دنیا میں کسی بھی فرد کے اچھے کاموں یا اکثر مواقع پر خرافات سے متاثر ہو کر اپنی کسی ذاتی غرض اور فائدے کے بغیر اس کا فین بن جاتا ہے۔ میں چوبیس گھنٹے اس خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں آزادی سے سانس لے رہا ہوں، انواع واقسام کی اشیا سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی آسان سے آسان بنا رہا ہوں، مگر میں خدا کو ایک لمحے کے لیے بھی اپنے شب وروز میں شامل کرنے، اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اور بات وہیں آکر ختم ہوجاتی ہے، اصل میں آج کا سماج، آج کی تعلیم، آج کی اقدار مجھے اللہ میاں کا فین نہیں بنارہی بلکہ انسان کو خود اسی کا فین بنانے کی طرف مائل کررہی ہے۔ کیوں کہ اللہ میاں کا فین بننے کے لیے اس کا بندہ بننا پڑے گا اور یہ کام تو نفس پر بڑاں گراںگزرتا ہے۔ بقول مولانا حالیؔ
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کہ انسان کا بندہ نیک عمل کا فین کیا ہے ہے اور کے لیے اور اس خدا کی
پڑھیں:
کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔
بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔
بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں
خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔
ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟
چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔
اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔
یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔
نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔
دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔
واپس لاہور آتے ہیں۔
آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔
ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔
آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟
مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی
شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر