Jasarat News:
2026-07-24@03:11:42 GMT

بندگی ٔ بے غرض

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251206-03-6
میں: تم نے گزشتہ نشست میں اقبال کے ایک شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بندگی کی غرض جنت کے انعام اور دوزخ کے عذاب کے ڈر سے ماورا ہونی چاہیے۔ لیکن یہ یقین دہانی تو خود اللہ نے اپنے رسولؐ کے ذریعے کرائی ہے کہ جس نے ایمان لانے کے بعد دنیا میں نیک عمل کیے اسے انعام میں جنت عطا کی جائے گی اور وہ دوزخ سے بچا لیا جائے گا۔ اور مجھے اس بات پورا یقین ہے کہ میں جو بھی نیک عمل کروں گا، تو انعام میں خدا مجھے وہ سب کچھ دے گا جس کا اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔

وہ: لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمہیں یہ یقین کیوں ہے؟

میں: اس لیے کہ اللہ اس ساری کائنات کا خالق ہے، ہمارا پروردگار ہے، پالن ہار ہے، اسی نے مجھے پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز اس کے حکم کی تابع وپابند ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

ہے سزاوار کبریائی کا
وہی مالک ہے کل خدائی کا

اور دوسرے یہ کہ میں خدا اور اس کی بنائی ہوئی ہر شہ کے آگے عاجز ہوں اسی لیے اس کائنات کی تمام چیزوں کی طرح بحیثیت انسان میں بھی اس کا حکم ماننے کا پابند ہوں۔

اور سب سے اہم چیز جو مجھے ہر دم بندگی کی روش پر قائم رکھتی ہے کہ نہ مجھے اپنی زندگی پرکوئی اختیار ہے نہ موت پر۔ یعنی جب خود اپنی تخلیق میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے تو مجھے اپنے وجود پر اختیار کیسے ہوسکتا ہے؟ …

وہ: مگر اس تمام بے اختیاری کے باوجود تمہیں اس زندگی میں اپنے عمل پر پورا اختیار ہے اور اس اختیار کی جواب دہی کے بعد آخرت میں جزا وسزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہی وہ غرض ہے جو خدا کے مقام و مرتبے اور اس دنیا میں بندے کی حیثیت کی بنیاد پر اسے نیک عمل پر آمادہ اور برائی سے باز رکھتی ہے۔

میں: لیکن وہ ابتدائی سوال ابھی بھی جواب طلب ہے کہ کسی غرض کے بغیر بندگی کے لیے انسان کی آمادگی کیوں کر ممکن ہے؟

وہ: اصل میں بندگی مکمل سپردگی یعنی Complete Surrender اور سراپا عقیدت کا نام ہے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب بندے کو اس کائنات اور اس کے بنانے والے کی مقتدرت، خلاقیت، اور کاریگری کا مکمل ادراک ہوگا۔ بقول اسمٰعیل میرٹھی ؔ

ہر چیز سے ہے تیری کاریگری ٹپکتی
یہ کارخانہ تونے کب رائیگاں بنایا

اور مشکل یہ ہے کہ آج کے انسان کے پاس اس خلاقی اور کاریگری کو دیکھنے، سمجھنے، غورو فکر کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ وہ اقبال نے کہا ہے نا

حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے

میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ انسان صرف اس کائنات میں موجود اشیاء و عناصر، چرند پرند، ہوا، اشجار، دریا، پہاڑ، آسمان اور بادل اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ فقط ان کو ہی اپنے مشاہدے میں لا کر عقل کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کرے تو شاید اس کے سامنے خدا کی بنائی ہوئی کائنات میں موجود کیمیا گری اور حکمت کا کوئی راز افشا ہوجائے۔ پھر وہ اس تخلیق کے سامنے خود کو عاجز سمجھتے ہوئے بندگی کا فریضہ بجالائے؟

وہ: لیکن ذرا تم ہی بتائو تمہاری اور میری زندگیوں میں یہ مرحلہ ٔ حیرانی کتنی بار آیا ہے؟

میں: شاید ایک بار بھی نہیں بقول میرؔ

سرسری تم جہان سے گزرے

ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا

مگر تمہاری اس بات سے میرے ذہن میں ایک اور بات آرہی ہے، کیا اس کی وجہ وہ نظام ِفکر اور طریقۂ علم ہے جو بہت کچھ پڑھنے اور سیکھ جانے کے بعد بھی مجھے حیران نہیں کررہا ہے، میری نیندیں نہیں اڑا رہا، مجھے بے کل نہیں کررہا، میری کسی ایسے لمحہ ٔ فکر کی طرف رہنمائی نہیں کررہا جہاں سے میں اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کی جستجو خود سے کرسکوں۔

وہ: تمہاری بات درست ہے کیوںکہ آج کا ہر شعبۂ علم فرد میں صرف ڈگری کے حصول کی جوت جگاتا ہے اور اس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا اس کی آخری منزل قرار پاتا ہے۔ یعنی آج کی درس گاہیں ایک جیسی اُن مختلف فیکٹریوں کی طرح ہیں جہاں سے انسان کی شکل میں لاتعداد مشینیں ہرسال ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں بن کرنکل رہی ہیں جو سوچنے سمجھنے سے عاری، خود کو خدا کا بندہ سمجھنے اور ماننے سے انکاری اور اپنے مقصد ِ وجود کو جاننے سے قاصر ہیں۔ بقول اقبالؔ

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ

میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہوکہ انسان کو اپنے علم اور شعور کے ذریعے خدا کی قدرت اور اپنی کم مائیگی کا ادراک رکھتے ہوئے کسی غرض اور لالچ کے بغیر بندگی کا فرض ادا کرنا چاہیے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان غرض کا بندہ ہے اور خدا نے اسی سرشت پر اسے تخلیق کیا ہے۔ اسی لیے نفس کو مرغوب اشیا کے ذریعے اسے نیک عمل کی ترغیب دلائی اور آگ میں جلنے اور سزا کا خوف دلا کر برائی سے رکنے کا درس دیا۔ تو پھر اگر میں انعام کی لالچ اور آگ کی لپٹ سے بچنے کے لیے ربّ کی بندگی کررہا ہوں تو اس میں حر َج کیا ہے؟ جبکہ آج کے انسان کا حال تو یہ ہے کہ وہ کسی غرض کے لیے بھی بندگی کا روادار نہیں ہے اور تم بے غرض بندگی کی بات کررہے ہو۔

وہ: میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی حر َج ہے یا ایسا کرنا کسی ضرر کا باعث ہے، بندگی کے انعام میں جنت میں گھر تو سراسر منافع کا سودا ہے۔ اور رہی بات آج کے انسان کی تو وہ تو خود کو خدا کا بندہ ہی ماننے سے انکاری ہے توکیا غرض اور کیا بے غرض بندگی۔ اگر غور کرو تو یہ fan following کا دور ہے۔ آج کا انسان خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی بنائی ہوئی سوشل میڈیا کی دنیا میں رہ رہا ہے اور وہ اس دنیا میں کسی بھی فرد کے اچھے کاموں یا اکثر مواقع پر خرافات سے متاثر ہو کر اپنی کسی ذاتی غرض اور فائدے کے بغیر اس کا فین بن جاتا ہے۔ میں چوبیس گھنٹے اس خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں آزادی سے سانس لے رہا ہوں، انواع واقسام کی اشیا سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی آسان سے آسان بنا رہا ہوں، مگر میں خدا کو ایک لمحے کے لیے بھی اپنے شب وروز میں شامل کرنے، اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اور بات وہیں آکر ختم ہوجاتی ہے، اصل میں آج کا سماج، آج کی تعلیم، آج کی اقدار مجھے اللہ میاں کا فین نہیں بنارہی بلکہ انسان کو خود اسی کا فین بنانے کی طرف مائل کررہی ہے۔ کیوں کہ اللہ میاں کا فین بننے کے لیے اس کا بندہ بننا پڑے گا اور یہ کام تو نفس پر بڑاں گراںگزرتا ہے۔ بقول مولانا حالیؔ

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

شرَفِ عالم سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کہ انسان کا بندہ نیک عمل کا فین کیا ہے ہے اور کے لیے اور اس خدا کی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف