بدین ،حاجی جونیجو ہائی سیکنڈری اسکول میںسندھی ثقافت منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251206-11-11
بدین(نمائندہ جسارت )بدین ترائی کے قریب حاجی جونیجو ہائی سیکنڈری ااسکول میں سندھی ثقافت کے رنگین رنگ سامنے آگئے۔ سندھی ثقافت کی گہرائیوں میں ثقافتی تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے۔ سندھی کلچر ڈے کی شاندار تقریب کا آغاز بی ایچ ایس ایس حاجی جونیجو ااسکول، بدین، اس ترائی شہر کے قریب ہوا ہے۔ ااسکول میں سندھی کلچر ڈے بڑے جوش و خروش، محبت اور جذبے کے ساتھ منایا گیا! سندھی روایتی ملبوسات میں ملبوس طلبا اور اساتذہ نے اپنی سرزمین کے رنگوں اور ثقافت کو خوبصورتی سے پیش کیا۔ اس رنگارنگ تقریب میں شامل تھے: روایتی لباس کا مقابلہ موسیقی اور لوک رقص شاعری کی خوبصورت پرفارمنس روایتی کھیل جیسے ونجھوٹی، اور ملاکھڑو، جہاں سب نے مل کر سندھی مہمان نوازی اور گفتگو کی، سندھی ثقافت اور روایات پر مبنی ایک شاندار ٹیبلو اساتذہ اور طلبا کی مشترکہ کاوشوں نے اس دن کو یادگار بنا دیا۔ آئیے اپنی سندھی ثقافت کو ہمیشہ زندہ اور روشن رکھیں! تقریب میں سنئیر ہیڈ ماسٹر سید عمران شاہتعلقہ ایجوکیشن آفیسر محمد یونس رحمان اور نیاز میمن کے ساتھ صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اسکول میں شاندار ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ قومی ملبوسات میں ملبوس طلبا و طالبات نے شرکت کی اور قومی ترانوں پر رقص کرکے ماحول کو معطر کردیا۔ اسکول کے بچوں نے مختلف ٹیبلکس پیش کر کے خوب داد وصول کی۔ حاجی جونیجو ہائر سیکنڈری اسکول کے طلبا بشمول سمیرا اور اس کی سہیلیوں آسیہ نور، اعجاز چانڈیو، مائرہ چانڈیو، مزمل رحیمون، آصف دیوانگ، اویناش گروپ، گلناز چانڈیو نے قومی نغمہ پیش کیا۔ ظہیر خاصخیلی، اعجاز شاہ اور مہک چانڈیو نے قومی نغمہ گا کر دھوم مچا دی۔ حاجی جونیجو ہائیر سیکنڈری ااسکول میں سندھ کی ثقافت کے حوالے سے اوطاق، گھوڑے سواری، ونج وٹی، چیکلو اور کشتی کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے۔ اس موقع پر اسکول کے پرنسپل عمران شاہ،GM جتوئی، جمیل میمن،صدام میمن، علی المرتضی میمن،صحافی رضا آکاش، اورمنور علی میمن و دیگر نے خطاب کیا اور کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب صدیوں پر محیط ہے۔ ہماری تہذیب میں مہمان نوازی بھی شامل ہے۔ ہم مہمان نواز قوم ہیں لیکن 75 سال پہلے ہماری مہمان نوازی ہم پر ختم ہو گئی۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم سندھ میں غیر ملکیوں کو مسترد کرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ غیر ملکیوں کو فوری طور پر سندھ سے نکالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ ثقافتی دن صرف ایک دن کی تقریب نہیں ہے بلکہ یہ ہماری سرزمین، ہماری شناخت، ہمارے ورثے اور سندھ سے محبت کا جشن ہے۔ جو ثقافتی تقریبات منائی جا رہی ہیں وہ 7 دسمبر کو منائی جا رہی ہیں ہم کلچرل ڈے کو شایان شان طریقے سے منائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھی ثقافت اسکول میں
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔