امتحانات کے دوران اساتذہ کو نوٹسز جاری کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، سید علی رضوی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم جی بی کے صدر نے کہا کہ اساتذہ کی تذلیل اور تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف خاموشی ممکن نہیں، استاد اس معاشرے کا ستون ہے، اور ان کے وقار پر حملہ پورے نظام تعلیم کو ہلا دینے کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمزمجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی صدر آغا علی رضوی نے کہا کہ سالانہ امتحانات کے دوران اساتذہ کو شوکاز نوٹسز جاری کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ فہم عمل ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ محکمہ تعلیم اساتذہ کے وقار اور طلبہ کے مستقبل دونوں سے بے پروا ہے۔ ایک بیان میں آغا علی رضوی نے کہا کہ اساتذہ کی تذلیل اور تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف خاموشی ممکن نہیں، استاد اس معاشرے کا ستون ہے، اور ان کے وقار پر حملہ پورے نظام تعلیم کو ہلا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر نوٹسز ان اساتذہ کو بھی جاری کیے گئے ہیں جن کی تقرری این ٹی ایس اور وفاقی پبلک سروس کمیشن کے تحت شفاف طریقے سے ہوئی تھی، جبکہ کئی اساتذہ پیشہ ورانہ امتحانات پاس کر کے باقاعدہ ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان محنت کش اساتذہ کو ہراساں کرنا انصاف اور اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر آج کے حساس امتحانی ایام میں اساتذہ اپنی تذلیل اور ناانصافی کے خلاف بائیکاٹ جیسے اقدامات پر مجبور ہوئے اور اس کے نتیجے میں طلبہ کا تعلیمی سال متاثر ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری محکمہ تعلیم، اعلی حکام اور غیر ذمہ دارانہ نوٹسز جاری کرنے والے افسران پر عائد ہو گی۔ آغا علی رضوی نے اس اقدام کو اداروں کو دبانے اور اپنی انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اساتذہ کے ساتھ ہیں، ان کے وقار کا دفاع کریں گے، اور ہر اس تعلیم دشمن اقدام کی سخت مخالفت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اساتذہ کو نے کہا کہ علی رضوی کے وقار
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔