Express News:
2026-06-03@06:32:38 GMT

کرغزستان کے ساتھ تجارتی تعاون کا نیا باب

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 15 معاہدے اور مفاہمتی یاد داشتوں کا تبادلہ ہوا۔ تقریب میں پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اورکرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف شریک ہوئے۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے تجارتی حجم کو دو سال میں 15 سے 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہرکیا۔

پاکستان اور کرغزستان کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی حالیہ ملاقات بلاشبہ خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و معاشی حالات کے تناظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے مابین تعاون کی نئی راہیں بھی کھولتی ہے۔ اس ملاقات سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان علاقائی ہم آہنگی، اقتصادی اشتراک اور توانائی کے استحکام کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں واضح اور سنجیدہ رخ رکھتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ستائش ہے کہ پاکستان اور کرغزستان نے تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ دنیا کے بیشتر خطے آج علاقائی بلاکس کی قوت سے مستفید ہو رہے ہیں، عالمی معیشت میں وہی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں جنھوں نے خطوں کے درمیان رسائی اور تجارت کو فروغ دینے پر سرمایہ کاری کی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کو 2027 تا 2028 کے دوران 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یہ ہدف نہ صرف حقیقت پسندانہ ہے بلکہ دونوں ممالک کے لیے ایک ایسے معاشی سفر کا راستہ کھولتا ہے جو مستقبل میں اسے مزید وسعت دے سکتا ہے۔ اس ملاقات کے دوران ہونے والے معاہدات اور مفاہمتی یاد داشتوں کا عملی نفاذ اس ہدف کے حصول کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔ گزشتہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان جب کسی ملک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں عملی پیش رفت دکھاتا ہے تو اس کے نتائج نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

 دونوں ممالک نے ان ایم او یوز کے ذریعے نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی اور ثقافتی تعاون کے نئے در وا کیے ہیں۔ خاص طور پر تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

کرغزستان پہلے ہی پاکستانی طلبہ کے لیے ایک قابلِ قبول تعلیمی مرکز ہے۔ وہاں اعلیٰ تعلیم کا معیار بہتر ہے اور اخراجات نسبتاً کم ہیں۔ اس شعبے میں مزید تعاون دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان روابط بڑھانے کا سبب بنے گا۔ اسی طرح کرغزستان کے قدرتی مناظر اور پاکستان کے تاریخی و ثقافتی مقامات دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے لیے پُرکشش سیاحتی مقامات بناتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ عوامی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں علاقائی تعاون اور اقتصادی شراکتیں اس کی معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔ خاص طور پر وسطی ایشیائی ریاستیں، قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان، پاکستان کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔

ان ممالک کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات مضبوط کرنا پاکستان کے مستقبل کے لیے نہ صرف فائدہ مند ہے بلکہ قومی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے ان ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے، توانائی معاہدوں پر دستخط کرنے، ٹرانسپورٹ راہداریوں کو فعال بنانے اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی ہے، اور اس کے فوائد اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

وسطی ایشیا کا خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ قازقستان دنیا کے بڑے تیل اور یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ترکمانستان قدرتی گیس کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کے نمایاں ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ ازبکستان بھی گیس،کاٹن اور معدنی وسائل کا حامل ملک ہے جب کہ تاجکستان اورکرغزستان ہائیڈرو پاور سے مالا مال ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ تمام ریاستیں توانائی کے متبادل ذرایع فراہم کر سکتی ہیں جس کی ملکی صنعت کو شدید ضرورت ہے۔ پاکستان میں توانائی کی قلت اور مہنگی درآمدات نے معاشی بوجھ بڑھا رکھا ہے، ایسے میں ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ TAPI اور تاجکستان و کرغزستان کے ساتھ CASA-1000 جیسا بجلی فراہم کرنے والا منصوبہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تجارت کے حوالے سے پاکستان کو ان ریاستوں میں بڑی منڈیوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ ازبکستان اور قازقستان کو پاکستانی ٹیکسٹائل، ادویات، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، چاول اور سبزیاں بڑی مقدار میں برآمد کی جا سکتی ہیں۔ ترکمانستان اور کرغزستان میں تعمیراتی سامان، کیمیکل مصنوعات، فینشڈ گڈز اور زرعی آلات کی طلب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اپنے صنعتی شعبے کو بحال کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے ان منڈیوں کو بہترین مواقع کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

ان ممالک میں بھارت، ترکیہ اور چین پہلے ہی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، ایسے میں پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنی ثقافتی اور مذہبی قربت کی بنیاد پر ایک منفرد ساکھ قائم کرے۔وسطی ایشیا کی سمندر تک براہِ راست رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ممالک تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں، گوادر اور کراچی کو استعمال کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ پاکستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ حب میں تبدیل کر سکتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا مغربی روٹ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سمندر تک مختصر ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سڑکوں، ریل اور لاجسٹکس کے نظام کو بہتر بنا لے تو وہ سالانہ اربوں ڈالر صرف ٹرانزٹ فیس اور ٹرانسپورٹ سروسز سے کما سکتا ہے۔ اس کے ساتھ روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

اقتصادی تعلقات بڑھنے سے خطے میں امن و استحکام بھی فروغ پاتا ہے۔ تاجکستان اورکرغزستان جیسے ممالک افغانستان کے راستے پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتے ہیں، جب کہ قازقستان اور ترکمانستان بھی پاکستان کے ساتھ مشترکہ تجارتی مفادات رکھتے ہیں۔ افغانستان پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے، اس لیے علاقائی امن خود بخود اقتصادی تعاون کا ضامن بن جاتا ہے۔ پاکستانی سیاحت، مذہبی اور تاریخی ٹورازم کے میدان میں بھی وسطی ایشیائی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر سکتا ہے۔

تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیاں میڈیکل، انجینئرنگ اور آئی ٹی میں وسطی ایشیائی طلبہ کے لیے پرکشش ہیں، جب کہ ازبکستان، قازقستان اور تاجکستان ریسرچ اور سائنسی شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔ یہ تعاون مستقبل میں ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت و تجارت کے شعبوں میں جدید ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبوط ہونے سے نہ صرف تجارتی حجم بڑھے گا بلکہ سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوگا۔

پاکستان پہلے ہی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اہم رکن ہے، اور اگر وہ قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے ساتھ مضبوط اقتصادی شراکت قائم کر لے تو خطے میں اس کی پوزیشن اور زیادہ مستحکم ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ترکیہ، ایران، چین اور روس جیسے ممالک کے درمیان ایک توازن قائم کرنے میں بھی پاکستان کو مدد ملے گی۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی پالیسیوں کو مؤثر بنائے۔ سفارتی سطح پر سرگرم کردار، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے منصوبوں کی تکمیل، سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول، کسٹمز سسٹم میں اصلاحات، اور کاروباری طبقے کو سہولتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان اگر ان اقدامات کو عملی جامہ پہنا دے تو قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان کے ساتھ تجارتی تعاون کا نیا باب کھل سکتا ہے، جو نہ صرف معیشت کے لیے مفید ہوگا بلکہ علاقائی ترقی اور امن کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان یہ ملاقات صرف رسمی نوعیت کی نہیں بلکہ ایک جامع، حقیقت پسندانہ اور دور اندیشی پر مبنی سفارتی پیش رفت ہے۔

ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ دونوں ممالک نہ صرف اپنے عزم کو عملی جامہ پہنائیں گے بلکہ علاقائی امن، معاشی استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے نئے اقدامات بھی سامنے لائیں گے۔ پاکستان کی جانب سے وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے جو مثبت اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ نہ صرف ملک کی اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیں گے بلکہ سیاست اور سفارت کے میدان میں بھی پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔ بلاشبہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے بہتر مستقبل کی بنیاد بنے گا اور خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور ترقی کا نیا باب رقم کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور کرغزستان کے درمیان کے ساتھ تجارت ہے کہ پاکستان وسطی ایشیائی تاجکستان اور دونوں ممالک میں پاکستان پاکستان کے وسطی ایشیا پاکستان کی فراہم کر ممالک کے میں بھی سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے  3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔

اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ