data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251203-01-21
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے سانحہ نیپا چورنگی، معصوم بچے کی المناک موت،حکومتی بے حسی، کے ایم سی اور واٹر کارپوریشن کی نااہلی کے خلاف جائے حادثے پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ یونیورسٹی روڈ کے ایم سی کے ذمے،گٹر کے ڈھکن فراہم کرناواٹر کارپوریشن کی ذمے داری قابض میئر واٹر کارپوریشن کے چیئرمین،قابض میئر میں سانحہ نیپا میں معصوم بچے کی المناک موت پر اگر تھوڑی بھی غیرت باقی ہے تو وہ فوری استعفا دیں،قابض مئیر کو سانحہ نیپا کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے فوراً جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین کو ذمے دار قرار دے دیا،ہم وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر آئندہ گٹر میں کوئی بچہ گرا تو ایف آئی آر واٹر بورڈ اور ایکسین کے خلاف درج کرائی جائے گی، کراچی لہو لہان ہے اورمعصوم بچے اور شہری حکومتی غفلت و بے حسی کا نشانہ بن رہے ہیں، ہر طرف ایک تباہی کا منظر نظر آتا ہے،کراچی کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو کراچی کو اپنا نہیں سمجھتے اور کراچی کے لیے خطرہ ہیں، کراچی کو وڈیرہ شاہی و جاگیر دارانہ ذہنیت کے مطابق چلانا چاہتے ہیں، کراچی کے ساڑھے3 کروڑ عوام کے لیے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جس رات یہ واقعہ ہوا اس رات قابض مئیر، واٹر بورڈ کا چیئرمین اور ڈپٹی کمشنر سمیت سندھ حکومت بے خبر رہی، قابض مئیر کا طرز عمل یہ ہے کہ پورا دن گزرنے کے بعد مشینری تک کا انتظام نہیں کیاگیا، پوراشہر غم میں ڈوبا ہوا تھا اور قابض مئیر سوئمنگ پول میں ہیٹنگ سسٹم کا افتتاح کررہے تھے،وزیر ٹرانسپورٹ اعلان کرتے رہتے ہیں کہ ڈبل ٹیکر بسیں چلنے والی ہیں،لیکن سڑکوں کا یہ حال ہے کہ جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں۔مظاہرے سے امیر ضلع شرقی نعیم اختر، ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد،وائس ٹاؤن چیئرمین ابراہیم صدیقی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔مظاہرین نے میئر کے مستعفی ہونے سمیت دیگر نعرے بھی لگائے۔شرکا نے بینرز و پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس پر تحریر تھاکہ قابض مئیر مرتضیٰ وہاب استعفا دو، قاتل قاتل مئیر قاتل،شہر کو مقتل مت بناؤ،گٹروں پر ڈھکن لگاؤ، گٹر کا ڈھکن لگاؤ ورنہ گھر جاؤ، ابراہیم ہم شرمندہ ہیں، ابراہیم کراچی شرمندہ ہے، یہ غفلت یا قتل جواب دو جواب دو، ظالمو! جواب دو، موت کا حساب دو،ایک بینرز پر 3 سالہ ابراہیم کی تصویر تھی اور تحریر تھا کہ میں کس کے ہاتھ میں اپنا لہو تلاش کروں؟اس موقع پر نائب امیر ضلع انجینئر عزیز الدین ظفر، سیکرٹری ضلع نعمان پٹیل، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صہیب احمد،سمیت چیئرمین و وائس چیئرمین اور کونسلرزبھی موجود تھے۔سیف الدین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ قابض مئیر کہتے ہیں کہ یوسی چیئرمینز کو گٹر کے ڈھکن دے دیے ہیں، قابض مئیر نے ایک یوسی کو صرف 25 ڈھکن دیے ہیں جبکہ ایک یوسی میں ہزاروں کورز کی ضرورت ہے،ٹاؤن و یوسی کی ذمے داری نہیں ہے کہ وہ اپنے بجٹ سے گلی محلوں میں ڈھکن لگائیں، واٹر بورڈ اور کے ایم سی کی ذمے داری ہے کہ تمام ٹاؤنز و یوسیز چیئرمینز کو گٹر کے ڈھکن فراہم کریں۔انہوں نے کہاکہ قابض مئیر کی سرپرستی میں پارکوں پر قبضہ سنا تھا لیکن اب شہریوں کے مکانوں پر بھی قبضے کیے جارہے ہیں، 40 سال سے رہنے والے فردکے خلاف جعلی دستاویزات بنا کر گھر خالی کرانے کی سازش کی گئی، کراچی کو مفتوحہ علاقہ بنادیا گیا ہے، قابض مئیر پیرا شوٹر ہیں، سیاسی کارکن نہیں، ہم ایسے فرد کو کراچی کا مئیر نہیں تسلیم کرتے، پیپلز پارٹی کی حکومت اگر 2046 تک بھی رہے گی تو شہر مزید تنزلی کی طرف جائے گا۔ 17 سال میں اربوں اور کھربوں روپے خرچ کرکے اس حالت میں پہنچایا ہے، واٹر بورڈ کو کارپوریشن بنایا گیا لیکن اس پر ڈپٹی کمشنر کو تعینات کردیا گیا۔ ٹاؤن چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فوادنے کہا کہ سانحہ نیپا حکومتی بے حسی، کے ایم سی اور واٹر کارپوریشن کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے رونما ہوا ہے، بی آر ٹی ریڈ لائن میں گزشتہ رات معصوم بچے سمیت گزشتہ دنوں کئی افراد حادثات کا شکار ہوئے ہیں، ریڈ لائن منصوبہ موت کا کنواں ثابت ہوا ہے،اس منصوبے کو بنانے والوں کی ذمے داری ہے کہ موت کے کنویں کو حادثات سے بچانے کے لیے اقدامات کرے، بی آر ٹی پروجیکٹ کا آڈٹ اور انکوائری ہونی چاہیے،کراچی کو یتیم و لاوارث سمجھ لیا گیا ہے اور کے ایم سی و قابض مئیر کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے حقوق دلاکر رہے گی۔امیر جماعت اسلامی ضلع شرقی نعیم اختر نے کہا کہ2 دن قبل 3 سالہ ابراہیم کی المناک موت کے انتہائی اندوہناک واقعے کی مذمت کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں،سانحہ نیپا کے ذمے داران کو قرارواقعی سزا اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے، قابض مئیر کہتے ہیں کہ 106 سڑکوں کے مئیر ہیں لیکن کراچی یونیورسٹی سڑک پر ہونے والے واقعے کو ماننے پر تیار نہیں ہیں، بی آر ٹی کی وجہ سے ساتواں حادثہ رونما ہوا ہے، اربوں روپے کے منصوبے میں سے صرف 6 فیصد لوگ استفادہ کرسکیں گے، کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں ترقیاتی کام تیزی سے ہوتے ہیں لیکن کراچی کے پروجیکٹ مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے، کراچی کے عوام کے منتخب نمائندوں کو اختیارات دیے جائیں تو مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ سانحہ نیپا چورنگی ،معصوم بچے کی المناک موت، حکومتی بے حسی ، کے ایم سی اور واٹرکارپوریشن کی نااہلی کیخلاف جائے حادثہ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: واٹر کارپوریشن کی المناک موت ٹاو ن چیئرمین جماعت اسلامی کارپوریشن کی کی ذمے داری سانحہ نیپا واٹر بورڈ سیف الدین معصوم بچے کے ایم سی کراچی کے کراچی کو ر واٹر کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف