اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ کے جنوبی علاقے میں حماس کی سرنگوں میں نو ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کردیا ہے جس سے سرنگوں میں شہید ہونے والی فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 30 ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ مشرقی رفح میں آپریشن کے دوران، فوجیوں نے 9 اضافی ’دہشت گردوں‘ کو تلاش کیا جنہیں زیر زمین دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے میں ختم کر دیا گیا۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اب تک، مشرقی رفح میں زیر زمین دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 30 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر فلسطینیوں کی واپسی اور امداد کیلئے محفوظ راستہ دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی امریکہ، مصر، ترکی اور قطر کی ثالثی میں 10 اکتوبر کو عمل میں آئی تھی جبکہ اس کے بعد سے اسرائیل جنگ بندی کی سینکڑوں مرتبہ خلاف ورزیاں کرچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔