سپریم کورٹ نے اروندھتی رائے کی کتاب پر پابندی کی درخواست خارج کردی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
بنچ نے پبلشر پینگوئن اور مصنفہ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتہار نہیں ہے، آپ مصنفہ کے خیالات یا اسلوب سے اختلاف کریں، لیکن اسے قانون کی خلاف ورزی نہیں کہا جاسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے بُکر انعام یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے کی نئی کتاب "مدر میری کمز ٹو می" Mother Mary Comes to Me کی فروخت، سرکولیشن اور نمائش پر پابندی عائد کرنے کی درخواست یکسر خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو مصنفہ اور نہ ہی پبلشر نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ کتاب کے سرورق پر اروندھتی رائے کی بیڑی یا سگریٹ تھامے تصویر کو اشتہار یا تمباکو نوشی کی ترویج قرار نہیں دیا جاسکتا۔
درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ سرورق پر موجود تصویر قانون کے خلاف ہے اور تمباکو مصنوعات کی ترغیب کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ یہ دلیل بے بنیاد ہے، کیونکہ یہ کوئی ہورڈنگ نہیں جو عوام کے درمیان تمباکو نوشی کو فروغ دے، بلکہ ایک ادبی کتاب کا سرورق ہے جسے صرف وہی شخص دیکھے گا جو کتاب خریدے یا پڑھے گا۔ بنچ نے پبلشر پینگوئن اور مصنفہ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتہار نہیں ہے، آپ مصنفہ کے خیالات یا اسلوب سے اختلاف کریں، لیکن اسے قانون کی خلاف ورزی نہیں کہا جاسکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کوٹپا ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت اشتہارات، پروموشن، اسپانسرشپ یا کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کی مارکیٹنگ پر پابندی عائد ہے، تاہم کتاب کے سرورق پر محض ایک تصویر کو اس قانون کے تحت نہیں لایا جاسکتا۔ بنچ نے کہا کہ کتاب پر سلامتی وارننگ درج ہے اور یہ مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ معلوم نہیں یہ "گنجا بیڑی" ہے یا عام بیڑی۔
اس پر عدالت نے کہا کہ یہ بحث غیر متعلق ہے کیونکہ کتاب یا پبلشر کسی بھی طرح تمباکو مصنوعات کی تشہیر نہیں کر رہے۔ سپریم کورٹ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزار راجسمہن کی اپیل خارج کر دی اور کہا کہ اس طرح کی درخواستیں عدالت کے وقت کا زیاں اور بلاوجہ تنازع کھڑا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ کتاب Mother Mary Comes to Me اروندھتی رائے کی تازہ ترین یادداشت ہے، جسے ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی مل رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔