اپنے حفاظتی اقدامات میں فلسطین کی مقاومت اسلامی نے اپنے رہنماؤں کو پابند کیا ہے کہ وہ اجلاسوں کی جگہ پر کسی بھی قسم کے الیکٹرانک یا طبی آلات لے جانے سے گریز کریں۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے عہدیداروں نے الشرق الاوسط اخبار کو بتایا کہ اگرچہ امریکہ نے ترکیہ، قطر اور مصر جیسے ممالک کے ذریعے دوبارہ "دوحہ" جیسی ناکام غلطی نہ دُہرانے کے پیغامات ارسال کئے، لیکن حماس قیادت کو اسرائیل پر کوئی اعتماد نہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اسرائیل، غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہماری قیادت کو نشانہ بنائے۔ انہوں نے بتایا کہ دوحہ کارروائی کے بعد سے، حماس کی داخلی سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔ حماس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہماری تحریک کے رہنماؤں کے خلاف کسی غیر عرب ملک میں کارروائی کی قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز سے ہی، اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو بیرون ملک ٹارگٹ کرنے کا ایک منظم سلسلہ شروع کیا جن میں بیروت میں "صالح العاروری" اور تہران میں "اسماعیل ہنیہ" کا قتل شامل ہے۔

اس کے بعد تل ابیب نے دوحہ میں حماس کی مذاکراتی ٹیم کو بھی ہدف بنانے کی ناکام کوشش کی۔ الشرق الاوسط نے رپورٹ دی کہ حماس کے فلسطین سے باہر مقیم رہنماؤں کو سیکورٹی نگہداشت اور احتیاطی اقدامات سے متعلق احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق، رہنماؤں کو کسی مخصوص جگہ پر مستقل اجلاس نہیں کرنے چاہئیں۔ انہیں مختلف مقامات پر میٹنگز بلانی چاہئیں۔ اجلاسوں کی جگہ پر کسی بھی قسم کے الیکٹرانک یا طبی آلات لے جانے سے بھی گریز کیا جائے۔ واضح رہے کہ حماس کی جانب سے اپنے رہنماؤں کے لئے حفاظتی اقدامات میں نمایاں اضافہ "حزب‌ الله" لبنان کے کمانڈر "ہیثم علی طباطبائی" کی شہادت کے بعد عمل میں آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حماس کی

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف