کیا بریانی کھا کر بھی وزن کم کرنا ممکن ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
بریانی کو ہمیشہ وزن بڑھانے والی ڈش سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طریقہ درست ہو تو یہ کھانا وزن کم کرنے کے سفر میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
وزن گھٹانے کے لیے صرف اُبلی ہوئی غذا یا بھوکے رہنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انداز تبدیل کیا جائے تو پسندیدہ ڈشز بھی پلان کا حصہ رہ سکتی ہیں۔
وزن کم کروانے کی کوچ اور ماہرِ غذائیت موہیتا کے مطابق بریانی چھوڑنے کے بجائے اسے سمجھداری سے پکانا ضروری ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ چند بنیادی چیزیں ذہن میں رکھیں تو بریانی بھی ڈائٹ کا حصہ بن سکتی ہے۔ احساسِ جرم کے بغیر کھائیں، بس طریقہ بدل دیں۔‘‘
ان کے مطابق عام روایتی بریانی میں ایک کلو گوشت، ایک کلو چاول اور زیادہ گھی استعمال ہوتا ہے، جس سے چکنائی اور کاربوہائیڈریٹ بڑھ جاتے ہیں جبکہ پروٹین کم رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے والے افراد اسے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
موہیتا نے اپنی ’’چکن فَیٹ لوس بریانی‘‘ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں بغیر چکنائی والا گوشت، ناپ تول کر چاول، مناسب مصالحے اور بہت کم گھی شامل کیا جاتا ہے۔ اس طرح ذائقہ برقرار رہتا ہے مگر اضافی کیلوریز نہیں بڑھتیں۔
View this post on Instagramترکیب کے مطابق دو سو گرام چاول کے ساتھ چار سو گرام بغیر ہڈی والا چکن لیا جائے، جسے سو گرام گریک یوگرٹ اور مصالحوں میں میری نیٹ کیا جائے۔ چاول آدھے گھنٹے تک بھگوئے جائیں اور گوشت اسی دوران فریج میں رکھا جائے۔ پیاز صرف ایک چمچ گھی میں براؤن کی جائے یا ایئر فرائیر استعمال کیا جائے۔
تیار شدہ بریانی کو 300 گرام کم چکنائی والے دہی سے بنے رائتے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جس میں باریک کٹی سبزیاں شامل ہوں۔ ماہر کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے نہ صرف ذائقہ برقرار رہتا ہے بلکہ وزن میں اضافہ بھی نہیں ہوتا۔
موہیتا کا مؤقف ہے کہ صحت مند جسم کے ساتھ لذیذ کھانے سے بھی محبت کی جاسکتی ہے۔ ’’ہمیں ایسا کھانا کھانا چاہیے جس سے نفرت نہ ہو۔ چند سادہ تبدیلیاں بریانی کو بھی فٹنس پلان کا حصہ بنا سکتی ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاتا ہے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔