بجلی کی شکایات کے اندراج کیلیے ہیلپ لائن 118 کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-08-22
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)حکومت نے بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کے لیے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح کردیا۔یہ افتتاح وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کیا۔ ہیلپ لائن کے ذریعے بجلی کے شعبے کی شکایات فری درج کرائی جاسکیں گی۔ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات ٹریک اینڈ ٹریس بھی ہوسکیں گی۔ صارفین نمائندے کے بجائے براہ راست سسٹم میں شکایت درج کراسکیں گے۔ صارفین7 مختلف زبانوں میں شکایات درج کراسکیں گے۔شکایت کاازالہ ہونے پرسمتعلقہ صارف کو روبوٹک فیڈ بیک کال کی جائے گی۔ شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر وہ شکایت دوبارہ ایکٹو ہوجائے گی۔وزیر توانائی اویس لغاری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس سسٹم کے تحت شکایات سامنے آئیں گی، اس نظام سے پاور سیکٹر میں خود احتسابی ہوگی،آج کے بعد ایک ایک نااہلی سامنے آئے گی جس کی ذمے داری ہمیں اٹھانی ہوگی اور ذمے داری کے بعد کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کی بجلی جاتی تھی تو کال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہمیں لوگوں کو اس سسٹم سے آزاد کرنا ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ وزارت توانائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، ملک میں جتنے بجلی صارفین ہیں ان سب تک اس اقدام کا اثر جائے گا، سی ای اوز سے اپیل ہے کہ اس سسٹم کو کامیاب بنائیں، سسٹم کی کامیابی کے بعد کمپنیوں کے لوگوں کو جتنا ممکن ہوا ایوارڈ کریں گے، ہم ڈسکوز اور ڈیٹا گیدرنگ پر انحصار کررہے ہیں اور ڈیٹا میں ہیر پھیر ہوا تو اس سسٹم کا کوئی فائدہ نہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہیلپ لائن
پڑھیں:
سولر سسٹم لگوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری
شاہد سپرا:وفاقی حکومت نے سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین پر عائد جنرل سیلز ٹیکس (GST) کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا۔
سولر صارفین پر لگائے گئے 16 فیصد سیلز ٹیکس پر نظرِثانی کی درخواست منظور کر لی گئی ہے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے معاملے کی دوبارہ سماعت کی منظوری دیتے ہوئے کیس وفاقی ٹیکس محتسب کو واپس بھجوا دیا۔ تمام تر تقسیم کار کمپنیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
یاد رہے کہ سولر سسٹم سے بجلی بنانے والوں پر ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تھا جس کے باعث صارفین کو بھاری رقوم کی ادائیگی کرنا پڑتی۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے رواں سال فروری میں ٹیکس وصولی کا حکم جاری کیا تھا، جس پر نظرِثانی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔