سیاحتی اعتبار سے لندن کی تنزلی جاری، پیرس پھر بازی لے گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ایک وقت میں دنیا کے سرفہرست سیاحتی شہر لندن کی تنزلی کا سلسلہ جاری ہے جو اب عالمی درجہ بندی میں 18ویں مقام پر جاپہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے پُرامن اور پُرسکون ٹاپ 10 ممالک کون سے ہیں؟
لندن کے برعکس پیرس نے مسلسل 5ویں سال دنیا کے سب سے پرکشش شہر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔
سی این این کے مطابق یورو مانیٹر انٹرنیشنل کی جاری کردہ ٹاپ 100 سٹی ڈیسٹی نیشنز انڈیکس رپورٹ میں فرانسیسی دارالحکومت ایک بار پھر پہلے نمبر پر رہا جبکہ لندن کی پوزیشن پچھلے سال کے بعد مزید خراب ہوگئی۔
پیرس میں نوٹرے ڈیم کی دوبارہ تعمیر کے بعد کھلنے اور پی ایس جی کی چیمپیئنز لیگ میں فتح نے سیاحوں کی آمد میں اہم کردار ادا کیا۔شہر کی کامیاب سیاحتی پالیسی اور مضبوط انفراسٹرکچر نے بھی سنہ 2025 میں بڑی تعداد میں سیاحوں کو متوجہ کیا۔
مزید پڑھیے: چین کے 3 شہر دنیا کے 10 بہترین سیاحتی شہروں میں شامل
یورپ نے ایک بار پھر ٹاپ 10 کی فہرست پر غلبہ حاصل کرلیا جس میں 6 یورپی شہر شامل ہیں۔
گزشتہ برس لندن ٹاپ 10 سے نکل کر 13ویں نمبر پر آیا تھا لیکن اب مزید نیچے کھسک کر 19ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔
یورو مانیٹر انٹرنیشنل نے دنیا کے شہروں کی درجہ بندی مختلف عوامل کی بنیاد پر کی جن میں سیاحت، صحت و سلامتی، پائیداری اور اقتصادی کارکردگی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: کرہ ارض کے 15 گرم ترین مقامات میں پاکستان کے کتنے شہر شامل؟
2025 کے ٹاپ 10 شہر بالترتیب اس طرح ہیں پیرس، میڈرڈ، ٹوکیو، روم، میلان، نیویارک، ایمسٹرڈیم، بارسلونا، سنگاپور اور سیول۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیرس ٹاپ 10 شہر سیاحتی اعتبار سے سرفہرست شہر لندن یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیرس ٹاپ 10 شہر سیاحتی اعتبار سے سرفہرست شہر یورپ دنیا کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔