Islam Times:
2026-07-24@05:03:47 GMT

دنیا میں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، بدل چکے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

دنیا میں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، بدل چکے ہیں

اسلام ٹائمز: توانائی کے شعبے میں روس اور بھارت کا تعاون موجودہ جیوپولیٹیکل حالات کے باوجود بغیر کسی تبدیلی کے برقرار ہے۔ پوٹین کے مطابق، کچھ عالمی طاقتیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے خوش نہیں ہیں، خصوصاً بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات کے باعث، اور وہ اس کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پوٹین نے کہا کہ روس اور بھارت دونوں اس بات سے واقف ہیں کہ باہمی تجارت میں عدم توازن موجود ہے، لیکن بھارت نے کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کیونکہ بھارت کو روسی وسائل کی ضرورت ہے۔ خصوصی رپورٹ:

روس کے صدر ولادیمیر پوٹین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں، بھارت اور چین روس کے قریبی ترین دوست ہیں اور ماسکو کے ان دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے "نووستی" کے مطابق ولادیمیر پوٹین نے "انڈیا ٹوڈے" میگزین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور نئی طاقتوں کے مراکز ابھر رہے ہیں،  ایسے حالات میں بڑی طاقتوں کے درمیان استحکام برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہی استحکام دو طرفہ بین الاقوامی تعلقات کی مضبوط بنیاد بنتا ہے۔

پوٹین کے مطابق آج کی دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور عالمی نظام کی مجموعی ساخت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، دنیا میں تیزی سے ابھرتے ہوئے نئے مراکز تشکیل پا رہے ہیں، خصوصاً جنوبی دنیا (گلوبل ساؤتھ) تیزی سے ترقی کر رہی ہے، میری مراد جنوبی ایشیا ہے، صرف بھارت ہی نہیں بلکہ انڈونیشیا بھی مضبوطی سے ابھر رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سلسلے میں بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ مشترکہ تعاون نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ تعاون صرف دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتا، اگرچہ دنیا ہمیشہ تبدیل ہوتی رہی ہے مگر تبدیلی کی موجودہ رفتار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ان کے مطابق مستقبل میں بھی عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیاں تیز ہوں گی اور اس عمل کا انحصار نہ یوکرین کی صورتحال پر ہے اور نہ اس کا تعلق دنیا کے باقی تنازعات سے ہے، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کا مقصد کبھی بھی دوسروں کی ترقی روکنا نہیں رہا، اور اس تنظیم کا ایجنڈا ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ انٹرویو میں پوٹین نے زور دے کر کہا کہ بھارت اور چین روس کے نزدیک ترین دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین ہمارے سب سے قریبی دوست ہیں، ہم ان تعلقات کی بہت قدر کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ بھارت اور چین کے رہنما اپنی بصیرت کی بنیاد پر باہمی اختلافات کے حل کے لیے راستہ نکال لیں گے۔

بھارت روس تجارتی تعلقات:
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں روس اور بھارت کا تعاون موجودہ جیوپولیٹیکل حالات کے باوجود بغیر کسی تبدیلی کے برقرار ہے۔ پوٹین کے مطابق، کچھ عالمی طاقتیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار سے خوش نہیں ہیں، خصوصاً بھارت کے روس کے ساتھ تعلقات کے باعث، اور وہ اس کردار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پوٹین نے کہا کہ روس اور بھارت دونوں اس بات سے واقف ہیں کہ باہمی تجارت میں عدم توازن موجود ہے، لیکن بھارت نے کبھی پابندیاں نہیں لگائیں کیونکہ بھارت کو روسی وسائل کی ضرورت ہے۔

پوٹین کے مطابق بھارت کو روسی تیل، تیل کی مصنوعات اور کیمیائی کھاد کی ضرورت ہے، روس اور بھارت اس بات پر متفق ہیں کہ تجارتی عدم توازن کو دور ہونا چاہیے، لیکن پابندیوں کے ذریعے نہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ روسی تیل کی برآمدات بھارت کو مسلسل جاری ہیں، اور روسی شراکت دار بھارتی کمپنیوں کو انتہائی قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ پوٹین نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ روسی ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کو بھی ایسا کرنے کا حق ہے۔ پوٹین کا کہنا تھا کہ میں کبھی دوسرے عالمی رہنماؤں پر تبصرہ نہیں کرتا، نریندر مودی کبھی بھی اپنی پالیسی کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بناتے، بلکہ ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی نیک نیتی پت مبنی فیصلہ سازی:
جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں رائے مانگی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ کبھی کسی دوسرے رہنما کی کارکردگی پر تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کا سربراہ اپنی قومی دلچسپی کے مطابق کام کرتا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی رکھتے ہیں۔ 

فلسطین کے مسئلے کا واحد حل، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل:
پوٹین نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل وہ قراردادیں ہیں جو سالوں سے اقوام متحدہ میں منظور کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ہے۔ انہوں نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو تمام مسائل کا کلیدی حل قرار دیا۔

ذمہ دار افغانستان:
پوٹین نے کہا کہ افغانستان کی حکومت دہشت گردی اور منشیات کے خلاف نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو دیگر ممالک کی طرح اپنی مشکلات کا سامنا ہے، وہ داعش اور دیگر گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پوٹین نے آخر میں کہا کہ روس، بھارت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل حمایت کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ روس اور بھارت بھارت اور چین کر رہی ہے کہ بھارت بھارت کے بھارت کو دنیا میں رہے ہیں تیزی سے کے خلاف کے ساتھ رہی ہیں ہے اور اس بات ہیں کہ کہ روس روس کے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار