برطانوی اقلیتیں مقامی سیاست میں بھرپور شرکت کریں، لارڈ قربان حسین
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
برطانیہ (ویب ڈیسک) برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے تاحیات رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ یہاں کی سیاست میں ضرور حصہ لینا چاہیے تاکہ ریفارم پارٹی کے امیگرنٹس کے خلاف بڑھتے ہوئے پروپیگنڈے کا جواب موثر انداز سے دیا جاسکے۔
وہ ایک مقامی ریسٹورنٹ میں سابق صدر پاکستان پریس کلب یوکے شیراز خان اور مرکزی نائب صدر اسرار احمد راجا کی جانب سے منعقدہ ایک ڈنر کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تقریب کی صدارت پاکستان پریس کلب کے مرکزی صدر مسرت اقبال نے کی۔
لارڈ قربان حسین نے مزید کہا کہ ایک تھنک ٹینک بنایا جائے، جس میں نسلی تعصب اور بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے تدارک بارے سوچ بچار کی جائے کہ ان چیلنجز کا کیسے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
تقریب کے مہمانان خصوصی میں دبئی سے کاروباری شخصیات محمد شہباز خان اور افتخار آزاد شامل تھیں جبکہ مفتی خالد محمود، ڈاکٹر یاسین رحمان، میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ موومنٹ برطانیہ اور یورپ کے چیئرمین حاجی چوہدری محمد قربان، حاجی عبدالقیوم، عبدالرؤف، محمد محفوظ مغل، امجد لون اور نصرم غازی شرکاء میں شامل تھے۔
اس موقع پر محمد شہباز خاں نے کہا کہ دبئی یا متحدہ عرب امارات کاروبار کا حب اس لئے بن چکا ہے چونکہ وہاں قانون کی حکمرانی ہے اور رئیل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔
افتخار آزاد کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے محکمہ تعلیم اور آئی ٹی کے شعبے میں روزگار کے بڑے پیمانے پر مواقع موجود ہیں۔
صدر پاکستان پریس کلب یوکے مسرت اقبال نے واضح کیا کہ پاکستان پریس کلب یو کے صحافیوں کا وہ پلیٹ فارم ہے، جو اس ملک میں اپنی کمیونٹی کا روشن چہرہ اور مثبت کام یا اچیومنٹ کو اُجاگر کرتا ہے، یہ پلیٹ فارم کمیونٹی رہنماؤں کو مواقع بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم سے اپنے مثبت سیاسی سماجی اور کاروباری ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔
ڈاکٹر یاسین رحمان نے کہا کہ میڈیا کی آزادی جمہوری نظام حکومت میں نہایت اہم ہے۔
مفتی خالد محمود کا کہنا تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی اور حُسن اخلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے سیاسی، معاشرتی اور دیگر معمولات کو آگے بڑھانا چاہیے، جس میں ہمارے لئے کامیابیاں اور کامرانیاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان پریس کلب
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔