پاکستانی طلبہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں مباحثہ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-01-5
لندن (صباح نیوز) آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاک بھارت مباحثہ پاکستانی طلبہ نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا، دونوں ممالک کے آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اسٹوڈنٹس یونین کے موجودہ صدر موسیٰ ہراج نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی، بھارتی طلبہ مباحثے میں اٹھائے گئے سوالات کا خاطر خواہ جواب نہ دے پائے۔ ڈیبیٹ ہال میں پاکستانی ٹیم کو 106 جبکہ بھارتی ٹیم کو صرف 50 ووٹ مل سکے۔ یہ کامیابی نہ صرف تعلیمی حلقوں میں پاکستان کی مثبت شناخت کو مزید مضبوط کرتی ہے بلکہ عالمی جامعات میں پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور تحریکی سوچ کا ایک واضح مظہر بھی ہے۔ مباحثہ اس قرارداد پر منعقد ہوا کہ ”بھارت کی پاکستان پالیسی دراصل عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمتِ عملی ہے جسے سیکیورٹی پالیسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔’’بھارت نے ابتدائی طور پر اعلیٰ سطح کے مقررین جیسے جنرل نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ کو مباحثے کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا جس کے بعد بھارت نے جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل ایک نسبتاً کم درجے کا پینل میدان میں اتارا۔ اس کے برعکس پاکستان نے بڑی فراخ دلی سے اپنے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آکسفورڈ میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان کو پورے اعتماد سے نمائندگی دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی طلبہ ا کسفورڈ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔