data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور:سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی  پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو آزاد قرار  دینے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پشاور ہائی کورٹ نے خارج کردی۔

جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

علی امین گنڈا پور نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب اراکینِ اسمبلی کو آزاد قرار دینے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔

گنڈا پور کی جانب سے الیکشن رولز 94 کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممبران کو آزاد قرار دیا ہے، لہٰذا یہ وضاحت کی جائے کہ پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت موجود ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر پہلے پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی بینچ اور بعدازاں سپریم کورٹ فیصلہ دے چکے ہیں، لہٰذا اب یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ ن کے وکیل نے بھی کہا کہ نظرثانی درخواستوں پر آئینی بینچ کے فیصلے کے بعد اس کیس کی مزید کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب جاری کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کی درخواست خارج کر دی گئی ہے۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور گنڈا پور کی پی ٹی آئی

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن