پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو آزادقرار دینے کیخلاف درخواست خارج کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو آزادقرار دینے کیخلاف درخواست خارج کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز
پشاور(سب نیوز) پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو آزاد قرار دینے کیخلاف درخواست خارج کردی۔درخواست کی سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے کی ۔
علی امین گنڈا پور کی درخواست میں الیکشن رولز 94کو چیلنج کیا گیا تھا۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممبران کو آزاد قرار دیا، اب الیکشن کمیشن بتائے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے یا نہیں۔وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پرپہلے پشاورہائی کورٹ کے 5رکنی بینچ، پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا۔
وکیل مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ نظرثانی درخواستوں پر آئینی بینچ نے فیصلہ دیا، اب یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو اب سنادیا گیا ہے۔عدالت نے سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا کی درخواست خارج کردی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں 25سال بعد پتنگ بازی کی مشروط اجازت، آرڈیننس جاری پنجاب میں 25سال بعد پتنگ بازی کی مشروط اجازت، آرڈیننس جاری یوکرین جنگ، ٹرمپ تجاویز پر روس اور امریکا کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، تعاون جاری رکھنے پر اتفاق آئی ایم ایف کی کرپشن پر رپورٹ، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہونے پر سینیٹ کمیٹی حکومت پر برہم گلگت بلتستان کے صوبائی انتخابات کا شیڈول جاری، 24جنوری کو پولنگ فیلڈ مارشل سے رائل سعودی لینڈ فورز کے کمانڈر کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پی آئی اے نجکاری کیلئے بولی 23دسمبر کو ہوگی، ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائیگی، وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: درخواست خارج کردی پی ٹی آئی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔