بنگلہ دیش ایڈوائزری کونسل کا اجلاس، این جی اوز کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کی ایڈوائزری کونسل کا ایک خصوصی اجلاس ہفتے کو چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی صدارت میں چیف ایڈوائزر کے دفتر میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے آغاز میں سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالده ضیا کی جلد صحت یابی کے لیے دعائے صحت کی گئی۔ دعا کی قیادت ریلیئجس افیئرز ایڈوائزر اے ایف ایم خالد حسین نے کی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی ہائی کمشنر کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی ایئرچیف سے ملاقات
اجلاس کے دوران، فارن ڈونیشنز (رضاکارانہ سرگرمیاں) ریگولیشن (ترمیم) آرڈیننس 2025 کے مسودے کو پالیسی سطح اور حتمی منظوری دی گئی۔ ترمیم کے تحت این جی اوز کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا گیا اور غیر ملکی مالی امداد کے اجرا سے متعلق شرائط میں نرمی کی گئی ہے۔
نئے قواعد کے مطابق، 50 لاکھ بنگلہ دیشی ٹکا (تقریباً پاکستانی روپے کے مساوی) تک کی امداد کے لیے پہلے سے منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت نے کہا کہ قانون کو اسٹیک ہولڈرز کے لیے زیادہ دوستانہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے
اجلاس میں پولیس کمیشن آرڈیننس 2025 کے مسودے کا بھی جائزہ لیا گیا، اور کونسل نے ہدایت دی کہ مسودے کو مزید بہتر کر کے اگلے اجلاس میں دوبارہ پیش کیا جائے۔
دریں اثنا، ایکسپٹریٹس ویلفیئر ایڈوائزر ڈاکٹر آصف نذرل نے کونسل کو آگاہ کیا کہ جولائی کے مظاہرے میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام میں یو اے ای میں حراست میں موجود باقی 24 بنگلہ دیشی شہری جلد رہا کیے جائیں گے اور چند روز میں بنگلہ دیش واپس آنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈوائزیری کونسل بنگلہ دیش ڈھاکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈوائزیری کونسل بنگلہ دیش ڈھاکا بنگلہ دیشی بنگلہ دیش کے لیے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔