Islam Times:
2026-06-03@00:01:09 GMT

بے ضمیر لوٹے کیا عوام کے حقوق کی جنگ لڑیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

بے ضمیر لوٹے کیا عوام کے حقوق کی جنگ لڑیں گے؟

اسلام ٹائمز: وقت کی ضرورت یہ ہے کہ عوام ایسے چہروں کو پہچانیں۔ ووٹ صرف اسکو دیں جو کردار رکھتا ہو، جو مشکل میں ساتھ چھوڑنے والا نہ ہو، جو اصول پر کھڑا ہو اور جو عزت اور مفاد کے درمیان عزت کا انتخاب کرے، کیونکہ قومیں غلط نمائندوں کے سبب تباہ ہوتی ہیں۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ صرف حق اور ضمیر کیلئے ہے، صرف اجتماعی مستقبل کیلئے ہے اور صرف اسی کو ووٹ دیں، جو اپنے اصول پر ثابت قدم رہ سکے۔ یاد رکھیں! بے ضمیر لوٹے عوامی حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتے۔ وہ صرف اپنی آسانیوں کی لڑائی لڑتے ہیں۔ جو قوم انہیں پہچان لے، وہ ترقی کرتی ہے۔ جو قوم انہیں نہ پہچانے، وہ بار بار دھوکہ کھاتی ہے۔ عوام کو اپنے فیصلے سنجیدگی سے کرنے ہوں گے اور ہر بار شعور کے ساتھ انتخاب کرنا ہوگا۔ تحریر: محمد حسن جمالی

سیاست میں کچھ کردار ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہیں دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ لوگ عوام کے حقوق کے محافظ ہیں یا صرف وقت کے سوداگر ہیں۔؟ ان کا چہرہ بدل جاتا ہے، زبان بدل جاتی ہے، موقف بدل جاتا ہے، مگر ایک چیز کبھی نہیں بدلتی اور وہ ہے ذاتی مفاد۔ یہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ بے ضمیر لوگ عوام کے حقوق کی جنگ ہرگز نہیں لڑتے، بلکہ وہ تو صرف اپنا حصہ کھوجتے ہیں۔ وہ عوام کے نام پر کھیلتے ضرور ہیں، مگر عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ ایسے لوگ امیدوں کو بیچ دیتے ہیں۔ ان کے وعدے صرف تقریر کے لیے ہوتے ہیں۔ وہ مشکل فیصلے کبھی نہیں لیتے۔ انہیں عوام کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی شعور کمزور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سماج کے اندر حقیقی قیادت کے لیے جگہ پیدا نہیں ہوتی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھ لیجئے۔ ہر دور میں اقتدار کے موسم کے ساتھ سیاستدانوں کے رنگ بھی بدلتے رہے ہیں۔ وہ لوگ نظریئے کے وفادار نہیں رہے، بلکہ تخت کے غلام رہے ہیں۔ وہ حلف تو اٹھاتے رہے، مگر اپنے مفادات سے ٹکراتے ہی انہوں نے اسے توڑنے میں دیر نہیں لگائی۔ وہ عوام کے لیے صرف ہجوم ثابت ہوئے۔ عوامی مسائل اور خواب ان کے ذہن میں کبھی جڑ نہیں پکڑے۔ وہ صرف موقع دیکھتے رہے، حالات کے تابع ہوتے رہے، عوامی حقوق سے کھیلتے رہے اور قوم ترقی کی بجائے رکتی ہوئی راہوں پر چلتی رہی۔ موجودہ سیاست میں بھی بغیر کسی فرق کے یہی سلسلہ جاری ہے۔ البتہ آج کی سیاست میں بے حس سیاسی کرداروں کے مقابلے میں کچھ روشن چہرے بھی دکھائی دیتے ہیں، جنہوں نے سیاست کو تجارت نہیں بننے دیا۔ جنہوں نے اقتدار کی کشش کو اصول پر ترجیح دی۔ انہی میں سرفہرست علامہ راجا ناصر عباس جعفری کا نام لیا جاسکتا ہے۔ جنہوں نے باعزت طریقے سے اسمبلی تک رسائی حاصل کی اور اصولی سیاست میں ثابت قدمی کا وہ نمونہ پیش کیا ہے، جس کی مثال کم ملتی ہے۔

ان کی سیاست کا محور طاقت نہیں، سچائی ہے۔ ان کے فیصلوں میں ذات شامل نہیں، عوام کی امانت شامل ہے۔ وہ ہر حالت میں اصول کے ساتھ چلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور سیاسی طوفان بھی ان کے راستے کو نہیں بدل سکے۔ ان کی سیاست میں شفافیت ہر عمل میں نظر آتی ہے۔ وہ محض نعرے نہیں لگاتے بلکہ عمل سے قوم کے لیے سبق دیتے ہیں۔ ہر فیصلہ فکر اور ضمیر کا عکس ہوتا ہے اور ان کے اصول عوامی خدمت کے لیے رہنماء بنے ہوئے ہیں۔ علامہ راجا ناصر عباس نے عملی طور پر یہ دکھایا ہے کہ نظریاتی سیاست آج بھی ممکن ہے۔ وہ مظلوموں کی بھرپور نمائندگی کرتے رہتے ہیں، ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی وقتی مفاد کے مقابلے میں اپنے نظریے کا سودا نہیں کیا۔ وہ نئی نسل کے سامنے اس بات کی زندہ دلیل ہیں کہ سیاست اگر کردار کے ساتھ کی جائے تو معاشرے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جب سیاست صرف داد و تحسین کے لیے نہیں بلکہ قوم کی بہتری کے لیے کی جائے تو رہنماء ایک نام نہیں بلکہ مثال بن جاتا ہے۔ عوام انہیں صرف سیاست دان نہیں بلکہ رہنماء کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا راستہ بلاشبہ پاکستانی معاشرے میں استقامت اور عزت کی علامت ہے۔

گلگت بلتستان میں بھی ایسے کرداروں کی کمی نہیں، جو اپنی چمک مفاد کی روشنی سے حاصل کرتے ہیں۔ یہاں سیاسی موسم بدلتے ہی کئی چہرے بھی بدل جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہر نئی حکومت کو اپنا قبلہ بنا لیتے ہیں۔ کل جس کے خلاف کھڑے تھے، آج اسی کے لیے نعرے لگاتے ہیں۔ کل جنہیں ناکام کہتے تھے، آج انہی کے دروازے پر حاضری دیتے ہیں۔ یہ لوگ عوام کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے اپنی سیاست کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کا موقف وقتی حالات کے مطابق بدلتا ہے۔ عوام کے لیے یہ چہرے کبھی یقین دہانی نہیں بن سکتے۔ اگر مصداق دیکھنا چاہیں تو سید امجد زیدی، اقبال حسن، راجہ ناصر روندو اور حاجی حمید خپلو کو دیکھ لیجئے، جن کے پی پی کو پیارے ہونے کی خبر سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔
 
گلگت بلتستان کے عوام نے ان مفاد پرست چہروں کو بارہا پرکھا ہے۔ انتخابی موسم میں یہ لیڈر بن کر سامنے آتے ہیں، خدمت کے وعدے کرتے ہیں، نظریاتی باتیں سناتے ہیں، مگر جیسے ہی کامیابی ملتی ہے، ان کی زبان بدل جاتی ہے، یہ عوام سے دور ہو جاتے ہیں، ان کا فون تو بند ہوتا ہی ہے، ساتھ میں ضمیر بھی بند ہو جاتا ہے۔ اس سے عوام کی توقعات ٹوٹتی ہیں، نوجوان مایوس ہو جاتے ہیں اور سچائی کی تلاش کمزور پڑ جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ قوم ایسے عناصر کو پہچانے۔ گذشتہ پانچ سال کے شروع میں جب گلگت بلتستان کے عوام نے سیاسی تھکن محسوس کی تو انہوں نے کچھ نئے اور باکردار چہروں کو آزمانا شروع کیا۔ گلگت بلتستان کے باشعور حلقوں نے مجلسِ وحدت مسلمین کے نوجوان لیڈر میثم کاظم کو ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا اور انہوں نے پورے پانچ سال عوام کی توقع سے ذیادہ گلگت بلتستان کے حقوق کی جنگ لڑی۔

سنگین حالات میں بھی انہوں نے اپنی نظریاتی سیاست پر ثابت رہ کر زبردست مثال قائم کی۔ جب وہ گلگت بلتستان اسمبلی میں اپنی مدت پوری کرکے واپس آئے تو گلگت بلتستان میں جگہ جگہ باشعور لوگوں نے ان کو وہ عزت دی، جو بے سابقہ ہے۔ یہ عزت کسی جذباتی موج کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ان کے کردار کا اعتراف تھا۔ عوام جانتے تھے کہ میثم کاظم مفاد کی ہوا سے نہیں بدلے۔ وہ اصول کی بنیاد پر کھڑے رہے، دباؤ میں خاموش نہیں رہے، سچ کے راستے کو چھوڑنے کے لیے وہ کسی قیمت پر آمادہ نہیں ہوئے اور ان کے تمام فیصلے عوام کے ساتھ انصاف کے عکاس رہے۔ بلا شبہ میثم کاظم کی سیاست کی بنیاد شفافیت پر مبنی رہی۔ آج انہیں دیکھ کر نوجوان سمجھتے ہیں کہ قیادت کا معیار عمر نہیں، کردار ہے۔ ان کے لہجے میں بناوٹ نہیں تھی، ان کے فیصلوں میں سوداگری نہیں تھی۔ وہ عوام کے سامنے وعدہ کرتے تھے تو اسے نبھانے کی پوری کوشش کی۔ اسی وجہ سے آج لوگ انہیں عزت دیتے ہیں، اعتماد دیتے ہیں اور اپنے مستقبل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یقین کیجئے ایسے کردار معاشروں کو اٹھاتے ہیں، سیاسی انتشار میں امید بن کر ابھرتے ہیں اور اصولی سیاست کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں سیاسی رنگ بدلنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ یہ لوگ کبھی کسی جماعت کے وفادار بنتے ہیں، کبھی مخالفین کے سائے میں جگہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک نظریہ وہ کپڑا ہے، جسے روز بدل سکتے ہیں۔ یہ کردار عوام کے لیے نقصان دہ ہیں، کیونکہ یہ قوم کی سمت بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بلکہ وہ اصل مسائل کی پہچان کمزور کر دیتے ہیں اور عوام کو وقتی نعروں میں الجھا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پورے گلگت بلتستان کی ترقی رک جاتی ہے۔ ایسے لوگ نوجوانوں کے لیے بھی غلط پیغام دیتے ہیں کہ سیاست صرف ذاتی فائدے کے لیے ہے۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ عوام ایسے چہروں کو پہچانیں۔ ووٹ صرف اس کو دیں جو کردار رکھتا ہو، جو مشکل میں ساتھ چھوڑنے والا نہ ہو، جو اصول پر کھڑا ہو اور جو عزت اور مفاد کے درمیان عزت کا انتخاب کرے، کیونکہ قومیں غلط نمائندوں کے سبب تباہ ہوتی ہیں۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ صرف حق اور ضمیر کے لیے ہے، صرف اجتماعی مستقبل کے لیے ہے اور صرف اسی کو ووٹ دیں، جو اپنے اصول پر ثابت قدم رہ سکے۔ یاد رکھیں! بے ضمیر لوٹے عوامی حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتے۔ وہ صرف اپنی آسانیوں کی لڑائی لڑتے ہیں۔ جو قوم انہیں پہچان لے، وہ ترقی کرتی ہے۔ جو قوم انہیں نہ پہچانے، وہ بار بار دھوکہ کھاتی ہے۔ عوام کو اپنے فیصلے سنجیدگی سے کرنے ہوں گے اور ہر بار شعور کے ساتھ انتخاب کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے جو قوم انہیں حقوق کی جنگ عوام کے لیے سیاست میں انہوں نے کی سیاست چہروں کو دیتے ہیں جاتی ہے کے حقوق میں بھی جاتا ہے کے ساتھ عوام کو ہیں اور اصول پر ووٹ صرف کہ قوم اور ان ہے اور

پڑھیں:

صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان