سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی کی اہلیہ ہراسانی کا شکار، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گانگولی کی اہلیہ ڈونا گنگولی نے آن لائن ہراسانی کا شکار ہونے پر مقدمہ درج کروا دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف رقاصہ ڈونا گنگولی نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز تبصروں اور باڈی شیمنگ کا نشانہ بننے کے بعد جمعہ کو کولکتہ پولیس سے رابطہ کیا۔
انہوں نے مقامی تھانے میں شکایت درج کرواتے ہوئے کہا کہ کولکتہ فلم فیسٹیول میں ان کی حالیہ پرفارمنس کے بعد انہیں آن لائن بدسلوکی اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنی شکایت میں ڈونا گانگولی نے بتایا کہ وہ تقریباً ساڑھے چار دہائیوں سے رقص کے شعبے سے وابستہ ہیں اور عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کرتی آئی ہیں۔
تاہم، چند سوشل میڈیا صارفین کے نازیبا تبصروں نے نہ صرف ان کی عزتِ نفس کو مجروح کیا بلکہ بطور فنکار ان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔
انہوں نے ایک مخصوص فیس بک پیج کا بھی حوالہ دیا جس پر ان کی پرفارمنس کی تصاویر شیئر کرکے گالی گلوچ اور بدنما الفاظ استعمال کیے گئے۔
شکایت کے مطابق، اس پیج نے ان کے وزن سے متعلق توہین آمیز ریمارکس بھی کیے۔ ڈونا نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر اس پیج کے اسکرین شاٹس اور ایک موبائل نمبر پولیس کے حوالے کیا۔
پولیس نے ان کی درخواست پر نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
حکام فراہم کردہ معلومات کی مدد سے مشتبہ فرد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ اس معاملے میں دیگر افراد کے ملوث ہونے کی بھی جانچ کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔