کراچی میں غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپہ، 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ڈیجیٹل ڈکیتیوں میں ملوث ملزمان بیرون ملک لوگوں کے بینک اکاونٹ ہیک کرلیتے تھے
ڈی ایچ اے فیز 6 میںکارروائی،1 لیپ ٹاپ ، 13 موبائل فونز،مختلف اہم دستاویزات برآمد
(رپورٹ: افتخار چوہدری) غیرقانونی کال سینٹر سے ڈیجیٹل ڈکیتیوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا، ملزمان بیرون ملک لوگوں کے بینک اکاونٹ ہیک کرلیتے تھے۔تفصیلات کے مطابق یشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کراچی نے ڈی ایچ اے فیز 6 میں غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ڈیجیٹل ڈکیتیوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔کارروائی بڑا بخاری میں ایک فلیٹ پر کی گئی ہے، جسے منظم کارروائیوں کے لیے جواد خان نامی ملزم نے لے رکھا ہے تاہم وہ بیرون ملک فرار ہے۔گرفتار ملزمان میں ایل ون، ملک نثار، شیرازطارق، شہریار طارق اور وائز شامل ہیں۔ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی کراچی طارق نواز نے بتایا کہ اس فلیٹ سے ہیکنگ کا منظم نیٹ ورک چلایا جارہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزمان بیرون ملک ڈیجیٹل وارداتوں میں ملوث ہیں، جو بیرون ملک لوگوں کے بینک اکاونٹ ہیک کرلیتے تھے اوران اکاونٹس سے اپنے مختلف اکاونٹس میں رقم ٹرانسفر کرتے تھے۔فلیٹ میں سرچنگ کے دوران 11 سینٹرل پروسیسنگ یونٹس، 1 لیپ ٹاپ ، 13 موبائل فونزاورمختلف اہم دستاویزات برآمد کرلی ہے ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹراین سی سی آئی نے کہا کہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔کراچی میں ہیکنگ یا ڈبے کے غیرقانونی دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے اور ایسے عناصر کو گرفتار کرکے جلد کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔