سرد موسم کی بہترین غذا ساگ، حیران کن فوائد سامنے آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ساگ سردیوں کی وہ نعمت ہے جو نہ صرف اپنی خوشبو اور ذائقے سے اشتہا بڑھاتی ہے بلکہ غذائیت کے اعتبار سے بھی بے مثال مقام رکھتی ہے۔ برصغیر کی قدیم روایات میں اس سبزی کو ہمیشہ خاص اہمیت حاصل رہی ہے اور جدید سائنسی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ساگ جسمانی صحت کے لیے کئی حوالوں سے فائدہ مند ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ساگ توانائی بخش سبزی ہے جو جسم میں تازگی بحال رکھنے، خون کی صفائی، بہتر ہاضمے اور قوتِ مدافعت مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، سی اور کے کے ساتھ ساتھ فولک ایسڈ، آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم اور فائبر کی مناسب مقدار اسے ایک مکمل اور متوازن غذا کا حصہ بنا دیتی ہے۔ وٹامن اے بینائی کو مضبوط بناتا ہے، وٹامن سی مدافعتی نظام کو توانا کرتا ہے جبکہ فولک ایسڈ خون کے نئے خلیات بنانے میں مددگار ہے۔ اسی طرح کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ساگ کا سب سے نمایاں فائدہ یہ ہے کہ یہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے جس کے باقاعدہ استعمال سے خون میں ہیموگلوبن کی سطح بہتر ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق آئرن کی کمی سے ہونے والی کمزوری، سانس پھولنے اور تھکن جیسے مسائل ساگ کھانے سے نمایاں طور پر کم ہوسکتے ہیں۔ سرد موسم میں نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکایات بڑھ جاتی ہیں، لیکن ساگ میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرکے ایسی موسمی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
ساگ میں پایا جانے والا قدرتی فائبر نظامِ ہاضمہ کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور قبض کے مسائل کو کم کرتا ہے۔ یہ آنتوں کی حرکت کو متوازن کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت میں واضح کمی لاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جگر کی صفائی اور اس کے افعال کو فعال رکھنے میں بھی ساگ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دل کی صحت کے حوالے سے بھی ساگ کو بہترین غذا تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ فائبر جسم میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مؤثر ہے، یوں دل کے امراض کے مریضوں کے لیے بھی یہ ایک محفوظ اور فائدہ مند انتخاب ہے۔ کیلشیم اور وٹامن کے کی وجہ سے یہ سبزی ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے بھی نہایت مؤثر ہے، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے اس کا استعمال جوڑوں کے درد اور ہڈیوں کی کمزوری جیسے مسائل میں بہتری لاتا ہے۔
ساگ جلد اور بالوں کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ وٹامن اے اور سی جلد کو ترو تازہ رکھتے ہیں جبکہ آئرن خون کی گردش بہتر بناتا ہے جس سے بال مضبوط ہوتے ہیں، ٹوٹ پھوٹ کم ہوتی ہے اور جلد پر موجود دھبے بھی بتدریج کم ہونے لگتے ہیں۔ کم کیلوریز اور زیادہ فائبر کی وجہ سے ساگ وزن کم کرنے والوں کے لیے بھی بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ پیٹ کو دیر تک بھرے رکھتا ہے اور غیر ضروری بھوک کو کم کرتا ہے۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ ساگ کو ضرورت سے زیادہ پکانے سے اس کے اہم غذائی اجزا ضائع ہوجاتے ہیں، اس لیے اسے ہلکی آنچ پر پکانا زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس میں تھوڑی مقدار میں دیسی گھی یا مکھن شامل کرنے سے اس کے غذائی اجزا جسم میں بہتر طور پر جذب ہوتے ہیں۔
یوں ساگ ایک سستی، مقامی اور انتہائی غذائیت سے بھرپور سبزی ہے جسے سردیوں کی غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف جسم کو توانائی بخشتی ہے بلکہ قدرتی طور پر کئی بیماریوں سے تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے بھی کرتا ہے ہے اور
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔