Jasarat News:
2026-06-03@00:47:51 GMT

سیاسی بحران کےخاتمے تک حالات بہتر نہیں ہونگے،اسد عمر

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

سیاسی بحران کےخاتمے تک حالات بہتر نہیں ہونگے،اسد عمر

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے پاکستان کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں، معیشت بیٹھ گئی ہے۔ سب کو مل بیٹھ کر سیاسی بحران حل کرنے کی ضرورت ہے۔

 انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بھارت کو ہم نے تگڑا جواب دیا پاکستان جیتا ساری دنیا مان گئی۔

 اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا 8 کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو بتائیں گی کہ معیشت کیسے بہتر ہوگی، حکومت نے ساڑھے 3 سال برباد کر دیے اب کمیٹیاں بنانے کا خیال آیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آپ سیاسی بحران ختم نہیں کریں گے حالات بہتر نہیں ہوں گے، سیاسی بحران حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی جماعتیں ایک پیج پر نہیں آئیں گی دھمکیاں چلتی رہیں گی، اگر قانون کے ساتھ الیکشن کروانے جا رہے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، صرف اپنی مرضی کے قانون بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 سابق وفاقی وزیر نے ٹریفک قوانین کے بارے میں کہا کہ اگر ٹریفک قوانین کو نافذ کرنے جا رہے ہیں تو یہ بہت اچھی چیز ہے، صرف اپنی مرضی کے قانون نافذ نہیں کیے جانے چاہییں۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاسی بحران کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی