گورنر راج لگے گا؛ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی بانی سے ملاقات نہیں ہوگی ؛ فیصل واوڈا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
سٹی 42: سینٹر فیصل واوڈا نے کل بھی ایک دعویٰ کیا تھا کہ اب سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی ۔اگر فیملی یا پارٹی کے لوگ بانی سے سیاسی ملاقاتیں کریں گے تو ان کی ملاقات پر پابندی لگ جائے گی ۔
سٹی 42 نے کل ہی اپنی خبر میں بتایا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سیاسی پیغامات لائیں گی تو ان کی ملاقاتیں "سیاسی ملاقاتیں" تصور ہوں گی۔
بانی کا خاص ٹاسک ملنے کے بعد سہیل آفریدی کے متعلق نیا سرپرائز
سینیٹر فیصل واوڈا نےکہاکہ عمران خان کی آگے کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سیاسی پیغامات لاتی رہیں تو یہاں بھی پابندی لگ سکتی ہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ کل وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو گی۔
آج بھی خبر آئی ہے کہ نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اگر مزید گند کرنا ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کےلیے تیار ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھاکہ 9 مئی کے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ کل سے اگلے ہفتے تک سب کو پتہ چل جائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ کل وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو گی
کرغزستان کے صدر 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
سٹی 42 نے کل کی خبرمیں بھی فیصل واوڈا کا یہ بیان لگایا تھا اور بتایا تھا کہ فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ مثبت کام ہو، موجودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنےعہدے پر رہیں،گورنر اپنا کام کریں اور صوبے کی خدمت ہو۔اگر دھونس اور زبردستی کی سیاست کرنی ہے تو گورنر راج سامنے ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنا کام کریں اور سیاسی راستہ بنائیں۔پہلے ہی کہا تھا کہ 26 نومبرکو کوئی چڑھائی نہیں ہوگی،میں سب کے لیے سیاسی حل چاہتا ہوں۔
شادی کے دیوانے دولہا بھائی کے ساتھ ان ہونی ہو گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے نہیں ہو تھا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔