مزید گند کرنا ہے تو کے پی میں گورنر راج کیلئے تیار ہو جائیں: فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
سینیٹر فیصل واؤڈا—فائل فوٹو
سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ اگر مزید گند کرنا ہے تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کےلیے تیار ہو جائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کے دوران کیا ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق فیملی کو ملاقات کی اجازت حال احوال کے لیے ہے،
فیصل واوڈا نے کہا کہ 9 مئی کے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کل سے اگلے ہفتے تک سب کو پتہ چل جائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ کل وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔